قسط نمبر 14: بہار کے سنگ

 


 بہار کے سنگ
قسط نمبر 14:

المیر سے ضبط کرنا مشکل ہو رہا تھا۔ شہروز جب نزدیک آیا تو المیر پلٹ گیا، کیونکہ وہ اس وقت کسی سوال کا جواب دینے کی ہمت نہیں رکھتا تھا۔ تانیہ نے اسے جاتے ہوئے دیکھ لیا تھا اور دونوں نے ایک دوسرے کو پہچان لیا تھا۔ شہروز تانیہ کی آواز پر رکا تو دیکھا کہ وہ سخت پریشان تھی۔

"وہ کون تھا؟" تانیہ نے ہانپتے ہوئے پوچھا۔ شہروز نے جواب دیا، "میں ابھی ملازم سے پوچھتا ہوں، دور سے آواز صاف نہیں آ رہی تھی کہ وہ لوگ کون تھے۔" شہروز گیٹ کے باہر گیا تو دیکھا کہ اس کے ملازم ایک گاڑی کا ٹائر نکالنے میں مدد کر رہے ہیں۔ المیر بھی ان کے ساتھ ہاتھ بٹا رہا تھا۔ شہروز نے تانیہ کو وہیں کھڑے دیکھا تو کہا، "تانیہ، آپ کا یہاں کھڑا ہونا مناسب نہیں، آپ اندر جائیں۔" تانیہ نے گھبرا کر کہا، "میں آپ کو بلانے آئی تھی، رومیسہ یاد کر رہی ہے۔" شہروز نے نرمی سے کہا، "آپ جائیں، میں آ رہا ہوں۔"

تانیہ کے جانے کے بعد شہروز ان کے قریب گیا۔ گاڑی کیچڑ سے نکل چکی تھی اور اسٹارٹ ہو گئی تھی۔ المیر نے مٹی سے بھرے ہاتھ صاف کرتے ہوئے شہروز کا شکریہ ادا کیا: "آپ کے ورکرز نے بہت مدد کی، اس میں والدہ کے لیے ضروری سامان تھا جو وقت پر پہنچنا لازمی تھا۔ کیا آپ یہیں رہتے ہیں؟" شہروز نے بتایا، "یہ فارم ہاؤس میرے والد کا ہے اور آج میری بہن کا فنکشن چل رہا ہے۔ آپ لوگ یہاں پہلی بار آئے ہیں؟" المیر نے جواب دیا، "جی، میں پہلی بار آیا ہوں، ویسے ماما یہاں آتی رہتی تھیں۔ میرے نانا نے یہ فارم ہاؤس ماما کو گفٹ کیا تھا تاکہ وہ شہر کے ہنگاموں سے دور یہاں صحت یاب ہو سکیں۔ آپ کا ایک بار پھر شکریہ۔" دونوں نے ہاتھ ملایا اور المیر گاڑی میں بیٹھ کر نکل گیا۔ شہروز سوچنے لگا کہ راستے میں بھی اسے ایسی ہی ایک گاڑی ملی تھی، خیر، وہ اپنے کاموں میں مصروف ہو گیا۔ اتنے میں شاہاب انکل (تانیہ کے والد) کی گاڑی بھی آ گئی اور شہروز انہیں اندر لے آیا۔

دوسری طرف، المیر نے سکون کا سانس لیا۔ وہ خود کو ملامت کرنے لگا کہ "میں تانیہ کے بارے میں کیا سوچنے لگا تھا؟ وہ کیسے نکاح پر نکاح کر سکتی ہے؟ تانیہ اب بھی میری ہے اور میں اسے ملے بغیر نہیں جانے دوں گا۔ وہ لڑکا (شہروز) کوئی قریبی رشتے دار ہی لگتا ہے۔ میں تانیہ کو اتنا تو جانتا ہوں، وہ بہت مضبوط کردار کی لڑکی ہے۔" وہ اپنے فارم ہاؤس پہنچا تو سامان ان لوڈ ہونا شروع ہوا۔ اس نے گروسری کے علاوہ آکسیجن سلنڈر اور میڈیکل کا سارا سامان منگوا لیا تھا تاکہ ایمرجنسی میں ماں کا علاج گھر پر ہی ہو سکے۔

اندر تانیہ ایک کونے میں بیٹھی تھی، اسے لگ رہا تھا اس کا دل بیٹھا جا رہا ہے۔ اسے دھچکا لگا تھا کہ کیا المیر اس کا پیچھا کر رہا ہے؟ اگر بابا کو پتہ چل گیا تو وہ کیا سوچیں گے؟ وہ اسی پریشانی میں تھی کہ شہروز اس کے پاس آیا۔ "تانیہ، آپ ٹھیک ہیں؟" اس نے فکر مندی سے پوچھا۔ تانیہ نے چونک کر اسے دیکھا۔ شہروز پاس ہی کرسی پر بیٹھ گیا: "تانیہ، کوئی مسئلہ ہے تو آپ مجھ سے شیئر کر سکتی ہیں۔ میں صبح سے نوٹ کر رہا ہوں کہ آپ کہیں کھوئی ہوئی ہیں۔ آپ ایک دوست کی حیثیت سے مجھ پر بھروسہ کر سکتی ہیں۔"

تانیہ نے تلخی سے کہا، "بھروسہ ہی تو نہیں کرنا، کیونکہ پھر لوگ توڑ جاتے ہیں۔" شہروز رکا اور بولا، "ہو سکتا ہے میں آپ کا بھروسہ واپس لے آؤں۔ شاید آپ کی کھوئی ہوئی کوئی چیز آپ کو واپس مل جائے۔" تانیہ نے جواب دیا، "مجھے کچھ نہیں چاہیے شہروز۔"

شہروز نے اسے الجھا ہوا دیکھ کر کہا، "ٹھیک ہے، میں آپ کو فورس نہیں کرتا۔ جب دل کرے بات کر لیجیے گا۔ ابھی تو فنکشن انجوائے کریں، آپ کے بابا آ گئے ہیں اور وہ آپ کا پوچھ رہے تھے۔ اپنا چہرہ ٹھیک کر لیں، وہ آپ کو پریشان دیکھیں گے تو سوال کریں گے۔ کبھی کبھی معاملات ہمارے ہاتھ میں نہیں ہوتے، اس وقت اوپر والے پر ٹرسٹ کر لینا چاہیے، وہ سب سنبھال لیتا ہے۔"

تانیہ اسے دیکھتی رہ گئی اور سوچنے لگی کہ وہ شہروز کی بات پر یقین کرے یا المیر کی اس بات پر کہ "میں ساتھ دوں گا، ایک بار میری بات سن لو۔" وہ ایک پل صراط پر تھی، جہاں اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ آگے بڑھے یا پیچھے۔ اسے اچانک حلق میں کچھ چھبتا ہوا محسوس ہوا، اس نے جاتے ہوئے شہروز کو پکارا، "شہروز! پانی ملے گا؟"

شہروز فوراً پانی اور جوس لے آیا۔ "پانی کے بجائے جوس پیئیں تاکہ آپ میں توانائی آئے۔ جب انسان جسمانی طور پر ٹھیک ہو تبھی صحیح سوچ سکتا ہے۔" تانیہ نے خاموشی سے جوس پی لیا اور اٹھ کھڑی ہوئی۔ "شکریہ شہروز، اتنا سب کرنے کے لیے۔" شہروز مسکرایا، "دوستوں کو شکریہ یا سوری نہیں کہتے۔ میں چاہتا ہوں آپ باقی لڑکیوں کی طرح خوش رہیں، زندگی میں مسئلے تو آتے ہیں بس بہادری سے مقابلہ کرنا ہوتا ہے۔"

المیر ماں کے پاس آیا تو وہ اپنے کمرے میں تھیں۔ "کہاں رہ گئے تھے؟ کھانا بھی نہیں کھایا ابھی تک،" آسیہ بیگم نے فکر مندی سے پوچھا۔ المیر نے جواب دیا، "بس ماما، ابھی کھا لیتا ہوں۔ آپ بتائیں، کچھ کھایا؟" انہوں نے مسکرا کر کہا، "ہاں، نسرین نے سوپ بنا کر دیا تھا، بہت مزے کا تھا۔ تم بھی کچھ کھا لو، مجھے فکر ہے کہیں تم بیمار نہ پڑ جاؤ۔ اور یہ کیا تم نے پورا اسپتال بنانے کا سوچ لیا ہے؟ یہ سارا سامان میرے کمرے میں کیوں ہے؟"

المیر نے سمجھاتے ہوئے کہا، "ماما! آپ شہر سے دور ہیں، یہ سب سامان میں نے ڈاکٹر کے مشورے سے منگوایا ہے تاکہ آپ کی طبیعت ذرا سی بھی خراب ہو تو میں رسک نہ لوں۔ کل سے ایک ٹرینڈ نرس بھی آپ کے پاس رہے گی۔ مجھے آفس کے لیے شہر جانا ہوگا، تو آپ کی کیئر کے لیے کسی پروفیشنل کا ہونا ضروری ہے۔ نسرین بھی ہے، مگر آپ کو میرے لیے خود کو بہتر کرنا ہے۔"

کھانے کے بعد المیر نے آفس فون کر کے تمام میٹنگز دو دن کے لیے ملتوی کروائیں اور پھر لیگل ایڈوائزر سے بات کی۔ کاغذات کی تیاری پر اس کا شکریہ ادا کر کے وہ تھوڑا پرسکون ہوا۔ اس نے سوچا کہ ماں سو رہی ہیں تو تھوڑی دیر لاؤنج میں بیٹھ کر ٹی وی دیکھے۔ جیسے ہی اس نے سوشل میڈیا اکاؤنٹ اوپن کیا، پہلی ہی پوسٹ نے اس کے ہوش اڑا دیے۔ اس کے والد (جہانگیر) کی اپنی ایک اداکارہ دوست کے ساتھ بیچ  پر تصاویر وائرل ہو رہی تھیں۔

"بابا! یہ کیا کر دیا آپ نے؟ اپنا اتنا اچھا امیج خود ہی خراب کر لیا،" اس نے غصے سے موبائل آف کیا اور صوفے سے سر ٹکا کر آنکھیں بند کر لیں۔ اسی وقت ملازم چائے لے کر آیا۔ المیر نے اشارے سے اسے رکھنے کو کہا۔ اس کے ذہن میں اپنے ہی الفاظ ہتھوڑے کی طرح بج رہے تھے: "ابا! آپ ہمیں اور کتنا شرمندہ کریں گے؟ کتنا اور گریں گے ہماری نظروں سے؟ اب تو شاہاب انکل کبھی نہیں مانیں گے۔ جس کا باپ ایسا ہو، اس کا بیٹا کیسا ہوگا؟" یہ سوال المیر کو اندر ہی اندر کھائے
جا رہا تھا۔

جملہ حقوق محفوظ ہیں 

تحریر: عشرت زاہد (ذوقِ عشا) © 2026 جملہ حقوق بحقِ مصنفہ محفوظ ہیں۔

اس کہانی (بہار کے سنگ) کے تمام حقوق، بشمول پلاٹ، کردار، مکالمے اور تحریر، مکمل طور پر مصنفہ عشرت زاہد کی ملکیت ہیں۔ مصنفہ کی پیشگی تحریری اجازت کے بغیر اس تحریر کا کوئی بھی حصہ کسی بھی شکل میں (بشمول سوشل میڈیا پوسٹس، بلاگز، آڈیو بکس یا یوٹیوب ویڈیوز) نقل کرنا، چوری کرنا یا کسی دوسرے نام سے شائع کرنا قانونی اور اخلاقی جرم ہے۔ خلاف ورزی کی صورت میں قانونی کارروائی کا حق محفوظ رکھا جاتا ہے۔

وضاحتی بیان 

یہ ایک افسانوی کہانی ہے جس کے تمام کردار، مقامات اور واقعات محض تخیلاتی ہیں۔ اس کا کسی بھی زندہ یا مردہ شخص، گروہ یا حقیقی واقعے سے تعلق محض اتفاقیہ ہوگا۔ کہانی کا مقصد صرف اور صرف تفریح ہے؛ اس تحریر کے ذریعے کسی کی دل آزاری، کسی فرقے، مذہب یا گروہ کی مخالفت یا کسی کی ذاتی زندگی پر تنقید کرنا ہرگز
مقصود نہیں ہے۔

اہم معلومات برائے ایپ ڈاؤن لوڈ 

آپ سب کی سہولت کے لیے میں نے اپنی آفیشل ایپ لانچ کر دی ہے جہاں آپ میرے تمام ناولز ایک ہی جگہ پر سکون سے پڑھ سکتے ہیں۔

ایپ ڈاؤن لوڈ لنک: https://drive.google.com/file/d/1Ggp4AGQXIP56CwbOVyF2S1-XMBkJO67W/view?usp=drive_link

ایک ضروری وضاحت: جب آپ اس لنک سے ایپ ڈاؤن لوڈ کریں گے، تو ہو سکتا ہے آپ کا موبائل اسے "Harmful App" یا "File might be harmful" ظاہر کرے۔ براہِ کرم اس سے بالکل نہ گھبرائیں اور نہ ہی پریشان ہوں۔ یہ کوئی دھوکہ، فراڈ یا وائرس نہیں ہے۔

چونکہ یہ ایپ ابھی آزمائشی مرحلے میں ہے اور براہِ راست گوگل پلے اسٹور پر رجسٹرڈ نہیں ہے، اس لیے اینڈرائیڈ سسٹم سیکیورٹی کی وجہ سے ایسا میسج دکھاتا ہے۔ یہ ایپ مکمل طور پر محفوظ ہے اور خاص طور پر آپ کے پڑھنے کے تجربے کو بہتر بنانے کے لیے بنائی گئی ہے۔

آپ بلا خوف و خطر "Install Anyway" پر کلک کر کے اسے انسٹال کریں اور اپنے موبائل پر میرے ناولز سے لطف اندوز ہوں۔


Comments

"سب سے زیادہ پڑھے جانے والے ناولز"

"میرا حصار: عزت یا اذیت؟"(مکمل ناول)

بہار کے سنگ قسط نمبر: 23

بہار کے سنگ قسط نمبر22