بہار کے سنگ - قسط نمبر 15
بہار کے سنگ - قسط نمبر 15
شہروز، رومیسہ کے پاس بیٹھ کر تصویریں بنوا رہا تھا کہ رومیسہ نے آہستہ سے کہا: "بھیا! تانیہ کو بھی بلا لیں، ایک اچھی تصویر بن جائے گی۔" شہروز نے جواب دیا: "تم پہلے اشارہ کر کے دیکھو کہ وہ آتی ہے یا نہیں، پھر میں جا کر بلاؤں گا، وہ ابھی انکل کے قریب بیٹھی ہے۔"
رومیسہ نے ہاتھ سے اشارہ کیا تو تانیہ اپنی جگہ سے اٹھی اور اسٹیج کی طرف آگئی۔ اس نے اسٹیج پر بیٹھتے ہوئے شہروز کو دوسری طرف کیا اور خود رومیسہ کے پاس بیٹھ کر تصویر بنوائی۔ تصویر بنوانے کے بعد تانیہ کہنے لگی: "رومیسہ! میں نے تو آپ کو یہاں انجوائے کرنے کے لیے بلایا تھا، لیکن آپ کیوں پریشان لگ رہی ہیں؟" تانیہ کی آواز شہروز کے کانوں تک جا رہی تھی، جس پر وہ بولی: "وہ بابا ابھی تک نہیں آئے تھے، اب آگئے ہیں تو میں ریلیکس ہوں۔"
شہروز نے آگے سے کہا: "واقعی یہی بات ہے یا کسی نے کچھ کہا ہے؟ آپ بس بتائیں، میں سب صحیح کر دوں گا۔" شہروز کے چھیڑنے والے انداز پر رومیسہ ہنس پڑی اور بولی: "تانیہ! بھائی کی بات کو سیریس مت لینا، یہ ایسے ہی تنگ کرتے ہیں۔" شہروز نے تانیہ کی طرف بڑی معنی خیز نظروں سے دیکھا اور کہا: "اچھا! اتنی جلدی؟ ابھی تو میں نے اپنے بارے میں کچھ بتایا بھی نہیں اور آپ میرے ساتھ بات کرتے ہوئے اتنی سخت، جبکہ رومیسہ کے ساتھ اتنا فرینڈلی انداز؟"
رومیسہ نے شرارت سے کہا: "میں آپ دونوں کی دوستی کروا دیتی ہوں۔ اب میں جا رہی ہوں اور بھائی اکیلے ہوں گے۔ میں چاہتی ہوں کہ ان کی زندگی میں بھی کوئی اچھا ساتھی آجائے، اب دیکھتی ہوں بھائی کسے پسند کرتے ہیں۔" تانیہ نے جواب دیا: "شہروز اتنے اچھے انسان ہیں، کوئی بھی لڑکی ان کے ساتھ بہت خوش رہے گی۔" یہ کہتے ہوئے وہ لاشعوری طور پر اپنے ہاتھ مسلنے لگی، جسے شہروز نے فوراً نوٹ کر لیا۔ شہروز نے فوراً کہا: "میرا دل کوئی رینٹ کا اپارٹمنٹ تھوڑی ہے کہ رہائش عارضی ہو، میں مستقل مزاج بندہ ہوں اور میرے لیے تو وہی ہوگی جو میرے دل کو بھا گئی ہو۔" تانیہ نے ایک دم شہروز کی طرف دیکھا تو نظریں فوراً نیچے جھکا لیں۔ شہروز کی آنکھیں صاف بتا رہی تھیں کہ وہ تانیہ کو پسند کرتا ہے، اس کے اندازِ گفتگو سے بھی یہی ظاہر ہو رہا تھا۔
رومیسہ ایک منٹ کے لیے وہاں سے اٹھی تو تانیہ بھی جانے لگی۔ شہروز نے اسے روکا: "کیا آپ میری کمپنی انجوائے نہیں کر رہیں جو اٹھ کر جا رہی ہیں؟" تانیہ شرمندہ ہو کر دوبارہ بیٹھ گئی: "ایسی بات نہیں ہے۔" شہروز نے پوچھا: "اگر ایسی بات نہیں تو وہ بات بتا دیں جو آپ کو تنگ کر رہی ہے۔ دوست سمجھ کر شیئر کریں، ہو سکتا ہے میں آپ کی الجھن سلجھا دوں۔"
تانیہ نے دبی آواز میں کہا: "بابا میری ڈیوورس (طلاق) کروانا چاہتے ہیں۔" شہروز نے سنجیدگی سے جواب دیا: "انکل نے مجھ سے بھی کہا تھا کہ وہ اپنی بیوی کے مجرموں کے گھر اپنی بیٹی کو رخصت نہیں کریں گے۔ ان کا خیال ہے کہ آپ لوگوں کو رشتوں کے نام پر ٹریپ کیا گیا ہے۔ وہ آسیہ بیگم اور ان کے شوہر کو معاف نہیں کر سکتے، وہ اپنے فیصلے میں بہت سخت ہیں اور آپ کی بھلائی چاہتے ہیں۔ لیکن میں یہ سوچ رہا ہوں کہ آپ کا نکتہ نظر جاننا بھی ضروری ہے، آپ کیا سوچتی ہیں؟ کیا آپ المیر کو پسند کرتی ہیں؟"
یہ پوچھتے ہوئے شہروز کا دل اندر سے لرز رہا تھا کہ اگر تانیہ کا جواب 'ہاں' ہوا تو وہ کیا کرے گا؟ کیا وہ تانیہ کے بغیر رہ سکے گا جو اسے اتنی بھا گئی ہے؟ تانیہ نے سر جھکایا ہوا تھا، شہروز نے دوبارہ پوچھا تو تانیہ نے کہا: "مجھے نہیں پتہ، میں خود بہت مشکل میں ہوں۔ المیر کے میسجز آتے ہیں، وہ کہتا ہے کہ اس سب میں اس کا کیا قصور ہے؟ وہ کہتا ہے کہ یہ اس کی ماں کی خواہش تھی، اسے بھی تب نہیں پتہ تھا کہ میں اس کی پھوپھو کی بیٹی ہوں۔ اس نے بدلے کے لیے نکاح نہیں کیا، انکل کو کوئی غلط فہمی ہوئی ہے۔ المیر مجھ سے ملنا چاہتا ہے لیکن بابا اس کے خلاف ہیں، انہوں نے سختی سے منع کیا ہے کہ نہ فون سننا ہے اور نہ ہی میسج کا جواب دینا۔ دو دن بعد وہ مجھے وکیل کے پاس لے جائیں گے، خلع کا کیس کرنا ہے۔"
یہ کہتے ہوئے تانیہ کی آنکھ سے ایک آنسو نکل آیا۔ شہروز نے اسے ٹشو دیا اور ساتھ کہا: "ابھی خود کو کمپوز کریں، وہی ہوگا جو آپ چاہیں گی۔ میں انکل سے بات کروں گا، آپ ریلیکس ہوں۔ اگر ایک بار ملنے کی بات ہے تو میں ملوا سکتا ہوں، جو ممکن ہوا آپ کے لیے کرنے کی کوشش کروں گا۔" تانیہ نے شہروز کو دیکھا اور پوچھا: "آپ ایسا کیوں کریں گے؟" جس پر شہروز نے جواب دیا: "کیونکہ آپ کو دوست مانا ہے، اور ایک دوست دوسرے دوست کے لیے اتنا تو کر ہی سکتا ہے۔" تانیہ نے کہا: "مجھے پتہ ہے آپ بہت اچھے انسان ہیں، جو بھی آپ کی زندگی میں آئے گی بہت خوش رہے گی۔" شہروز نے گہرا سانس لے کر کہا: "دل کا دروازہ ایک ہی بار کھلتا ہے، ہر لڑکی کے لیے میرا دل حاضر نہیں ہے، آپ کو دیکھا تو آپ دل میں اتر گئیں۔"
اس انکشاف پر تانیہ دیکھتی رہ گئی اور پھر رومیسہ آگئی: "آپ لوگ ابھی تک یہیں ہیں؟ باہر لان میں کھانا کھل گیا ہے۔" تانیہ باتوں میں اتنی مگن تھی کہ اسے اندازہ ہی نہیں ہوا کہ کب باقی سب لوگ باہر چلے گئے۔ رومیسہ ان دونوں کے ساتھ لان کی طرف آگئی جہاں بہت اچھا انتظام تھا۔
دوسری طرف، المیر نے اپنا موبائل ایک سائیڈ پر رکھا۔ اسے سر میں شدید درد ہو رہا تھا۔ اس نے اپنی چیزوں میں سے میڈیسن باکس ڈھونڈا اور دوا کھائی۔ ان تمام کاموں کی وجہ سے وہ ابھی تک اپنا سوٹ کیس بھی ان پیک نہیں کر سکا تھا۔ المیر نے فون میں تانیہ کی تصویریں دیکھنے کے لیے گیلری نکالی۔ یہ تصویر ہسپتال میں لی گئی تھی جب دونوں بہت خوش تھے۔ وہ سوچنے لگا: "کیا خوشی بس اتنی سی ہوتی ہے جو اتنی جلدی ختم ہو جاتی ہے؟ کیا ماضی کی غلطیاں ایک دم سے ساری محبت ختم کر سکتی ہیں؟ شاہاب انکل کو ایسا کیوں لگا کہ جو بھی ہوا جان بوجھ کر ہوا؟ میں کیوں بدلہ لوں گا تانیہ سے؟ میں کیسے سمجھاؤں کہ تانیہ مجھے اسی دن اچھی لگی تھی جب ہم شاپنگ مال میں ملے تھے، مجھے ایسی ہی لائف پارٹنر چاہیے تھی۔ پھر ماما نے دیکھا تو انہیں بھی پسند آگئی۔ ہم کب تک بابا کی غلطیوں کا خمیازہ بھگتیں گے؟ نہ ماما اپنے والدین کا ساتھ دیتیں اور نہ ہی وہ بابا کو پھوپھو کے بارے میں مس گائیڈ کرتیں، تو بابا کو کبھی اتنا غصہ نہ آتا جو اب نفرت میں بدل چکا ہے۔ وہی نفرت اب تانیہ اور اس کے فادر کے دل میں ہے۔" تانیہ کی تصویر سینے سے لگائے وہ صوفے پر ہی سو گیا۔
جمیل صاحب نے جب تمام مہمانوں سے شاہاب صاحب کا تعارف کروایا تو کچھ لوگ انہیں پہلے سے جانتے تھے اور کچھ نئے تھے۔ انہوں نے اپنے اسکول اور نئی برانچ کے پراجیکٹس کے بارے میں بتایا کہ کیسے اس ادارے کو اچھے سے چلا رہے ہیں، ساتھ میں اپنا کنسٹرکشن کا بزنس بھی ہے۔ ایک صاحب بولے: "آپ دونوں کی شروع سے بہت جمتی ہے، اسے رشتہ داری میں بدل لیں۔" جس پر جمیل صاحب بولے: "میرے بیٹے کو شاہاب بھائی کی بیٹی پسند ہے، اور اس شادی کے بعد ایک اور نکاح کی تیاری پکی رکھیے گا۔ شاہاب بھائی! آپ کو کوئی اعتراض تو نہیں؟" شاہاب صاحب سوچ میں پڑ گئے کہ تانیہ کی مرضی معلوم کرنی ہے، وہ پہلے والے واقعے سے خوفزدہ ہیں۔ وہ دل ہی دل میں دعا کرنے لگے: "میرے مالک! تو ہی بہتر راستہ دکھانے والا ہے۔"
رومیسہ نے شاہاب انکل کے پاس آکر کہا: "انکل! آپ نے کچھ کھایا نہیں؟" انہوں نے جواب دیا: "نہیں بیٹا، سب کچھ کھا لیا ہے۔" رومیسہ نے کہا: "انکل! آپ سے ایک بات کہوں، مانیں گے؟" شاہاب صاحب مسکرائے: "اتنی پیاری بیٹی اتنے پیار سے کہے گی تو ماننا ہی پڑے گا، کیا چاہیے؟" وہ بولی: "انکل! تانیہ کو میری بھابھی بنا دیں، بھائی اسے بہت خوش رکھیں گے۔ میں نے بھائی کی آنکھوں میں وہ چمک کسی اور کے لیے نہیں دیکھی جو تانیہ کے لیے دیکھی ہے۔ اور ایک بات، آج رات تانیہ اور آپ یہیں رک جائیں، فنکشن کے بعد ماما بابا آپ سے بات کریں گے۔ شہروز اور تانیہ بھی ایک دوسرے کو جان لیں گے، انکل انکار مت کیجیے گا۔"
شاہاب صاحب بولے: "بیٹا میں کیا کہوں، جو تم کہہ رہی ہو وہ سب ٹھیک ہے، میں رک جاؤں گا لیکن تانیہ کی زندگی کا فیصلہ ہے، وہ خود کرے تو زیادہ بہتر ہے۔ ایک بار جلدی میں غلط فیصلہ ہو گیا تھا۔" رومیسہ نے کہا: "جی انکل! بابا نے بتایا ہے، شہروز کو کسی بات پر اعتراض نہیں ہے، آپ بس ہاں کہہ دیں، تانیہ کو میں منا لوں گی۔" شاہاب صاحب نے حامی بھر لی: "اچھا صحیح ہے، اس پر بات کرتے ہیں۔" رومیسہ خوش ہو کر بولی: "شکریہ انکل! آپ نے میرا دل جیت لیا۔" وہ جانے لگی تو تانیہ آگئی: "ببا! کیا بات ہو رہی تھی؟ کیا جیت لیا رومیسہ نے؟" شاہاب صاحب نے بیٹی کو پیار کیا اور پوچھا: "فنکشن انجوائے کیا؟" تانیہ نے جواب دیا: "جی ببا مزہ آیا، ہم گھر کب جائیں گے؟ اب تو کھانا بھی کھا لیا ہے۔"
شاہاب صاحب بولے: "بیٹا! موسم خراب ہے، اتنی رات کو نکلنا ٹھیک نہیں۔ بارش کی وجہ سے راستے میں کیچڑ ہوگا، اگر گاڑی خراب ہو گئی تو کون مدد کرے گا؟ صبح سب نے جانا ہی ہے تو ہم بھی ان کے ساتھ نکل جائیں گے۔ شکر ہے باقی فنکشنز شہر میں ہی ہیں۔" شاہاب صاحب نے مزید پوچھا: "کیوں؟ کیا یہ فارم ہاؤس اچھا نہیں لگا؟" تانیہ بولی: "ببا! اتنے بڑے خوفناک درخت دیکھ کر خوف آ رہا تھا، میں ڈر رہی تھی، شکر ہے آپ آگئے۔ ٹھیک ہے صبح جائیں گے، میں اندر رومیسہ کے پاس جا رہی ہوں۔ آپ کی میڈیسن کا کیا ہوگا؟" شاہاب صاحب نے بتایا: "وہ میرے پاس ہے، میں ابھی کھا لیتا ہوں، میں نے احتیاطاً صبح ہی رکھ لی تھی جب میٹنگ سے سیدھا یہاں کے لیے نکلا۔"
تانیہ اندر جانے لگی تو فرش پر پانی گرا ہونے کی وجہ سے وہ پھسل گئی۔ اسے گرتا دیکھ کر شہروز دوڑتا ہوا آیا اور اسے اٹھنے میں مدد کی۔ وہ اسے سہارا دے کر اندر لایا اور صوفے پر بٹھایا۔ اتنے میں وہ میڈیکل باکس لے آیا اور ٹیوب نکال کر پوچھنے لگا کہ کہاں چوٹ لگی ہے۔ تانیہ نے پاؤں کی طرف اشارہ کیا تو وہ مرہم لگانے لگا۔ تانیہ نے شہروز کی طرف دیکھتے ہوئے کہا: "پاؤں کے زخم تو بھر جائیں گے، لیکن کیا آپ دل اور روح کے زخم بھی بھرنا جانتے ہیں؟" شہروز نے تانیہ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر جواب دیا:
"آزما کر دیکھ لیں۔۔۔"
[قسط کا اختتام]
جملہ حقوق محفوظ ہیں تحریر: عشرت خانم(عشرت زاہد ذوقِ عشا) © 2026
اس کہانی (بہار کے سنگ) کے تمام حقوق، بشمول پلاٹ، کردار، مکالمے اور تحریر، مکمل طور پر مصنفہ عشرت خانم (عشرت زاہد ذوقِ عشا) کی ملکیت ہیں۔ مصنفہ کی پیشگی تحریری اجازت کے بغیر اس تحریر کا کوئی بھی حصہ کسی بھی شکل میں (بشمول سوشل میڈیا پوسٹس، بلاگز، آڈیو بکس، پی ڈی ایف یا یوٹیوب ویڈیوز) نقل کرنا، چوری کرنا یا کسی دوسرے نام سے شائع کرنا قانونی اور اخلاقی جرم ہے۔ خلاف ورزی کی صورت میں قانونی کارروائی کا حق محفوظ رکھا جاتا ہے۔
وضاحتی بیان : یہ ایک افسانوی کہانی ہے جس کے تمام کردار، مقامات اور واقعات محض تخیلاتی ہیں۔ اس کا کسی بھی زندہ یا مردہ شخص، گروہ یا حقیقی واقعے سے تعلق محض اتفاقیہ ہوگا۔ کہانی کا مقصد صرف اور صرف تفریح ہے؛ اس تحریر کے ذریعے کسی کی دل آزاری، کسی فرقے، مذہب یا گروہ کی مخالفت یا کسی کی ذاتی زندگی پر تنقید کرنا ہرگز مقصود نہیں ہے۔
ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں:
"میری آفیشل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔ ڈاؤن لوڈ کے دوران اگر آپ کا فون
'File might be harmful'
کا میسج دکھائے، تو پریشان نہ ہوں، یہ مکمل طور پر محفوظ ہے۔ بس
'Install Anyway'
پر کلک کر کے اسے انسٹال کر لیں اور تمام ناولز ایک ہی جگہ پڑھیں۔"
ایپ ڈاؤن لوڈ لنک:

Comments
Post a Comment