بہار کے سنگ - قسط نمبر 16
بہار کے سنگ
- قسط نمبر 16
رات کی سیاہی فارم ہاؤس کے بڑے بڑے درختوں پر اپنی چادر پھیلا چکی تھی، لیکن شہروز کے دل میں امید کا ایک نیا چراغ روشن ہو چکا تھا۔ تانیہ کے پاؤں پر مرہم لگاتے ہوئے شہروز نے جب اسے آزمائش کی دعوت دی، تو تانیہ کی خاموش نظروں میں ایک عجیب سی کشمکش تھی۔ وہ شخص جو ابھی چند گھنٹے پہلے تک اس کے لیے محض ایک اجنبی تھا، اب اس کے زخموں کا سہارا بن رہا تھا۔ شہروز نے نرمی سے اس کا پاؤں صوفے پر رکھا اور اٹھ کر کھڑا ہوا۔ "تانیہ! میں جانتا ہوں آپ کے لیے یہ سب اتنا آسان نہیں ہے۔ ایک طرف آپ کے بابا کی نفرت ہے اور دوسری طرف المیر کے وہ پیغامات جو آپ کو بے قصور لگ رہے ہیں۔ لیکن یاد رکھیے، کبھی کبھی ہم دوسروں کے گناہوں کی سزا خود کو دینے لگتے ہیں۔"
تانیہ نے نم آنکھوں سے شہروز کو دیکھا۔ "شہروز! کیا واقعی انسان اپنی قسمت بدل سکتا ہے؟ میرے بابا مجھے خلع کے لیے وکیل کے پاس لے جانا چاہتے ہیں۔ کیا میرا خاموش رہنا المیر کے ساتھ ناانصافی نہیں ہوگی؟" شہروز نے تانیہ کے چہرے پر پھیلی اداسی اور آنکھوں کی سرخی کو محسوس کیا اور بہت نرمی سے پوچھا: "تانیہ! آپ پھر روئی ہیں؟ آپ کی آنکھیں بتا رہی ہیں کہ آپ اس وقت کسی شدید ذہنی جنگ میں ہیں۔" تانیہ نے نظریں جھکا لیں، اس کی خاموشی شہروز کے لیے واضح جواب تھی۔ شہروز نے لہجہ مزید دھیما اور اپنائیت بھرا کرتے ہوئے کہا: "یقیناً المیر کا میسج آیا ہوگا آپ کو؟ اور اس نے ملنے کا کہا ہوگا، ہے نا؟"
تانیہ نے حیرت سے شہروز کی طرف دیکھا، جیسے وہ پوچھنا چاہ رہی ہو کہ اسے کیسے پتہ چلا۔ شہروز مسکرایا اور بولا: "تانیہ! میں آپ کا دوست ہوں اور دوست دل کا حال پڑھ لیتے ہیں۔ آپ اس وقت جس کیفیت میں ہیں، اس میں اکیلے کوئی فیصلہ کرنا بہت مشکل ہے۔ میں آپ کے ساتھ ہوں، آپ خود کو اکیلا مت سمجھیں۔ اگر المیر سے ملنا ضروری ہے تاکہ آپ کے دل پر موجود یہ بوجھ ختم ہو سکے، تو میں آپ کے ساتھ چلوں گا، آپ اکیلی نہیں جائیں گی۔" تانیہ کے لبوں پر ایک ہلکی سی لرزش آئی: "لیکن بابا۔۔۔ وہ کبھی اجازت نہیں دیں گے۔" شہروز نے فوراً اسے ٹوکا۔ "انکل سے اس بات کا ابھی ذکر مت کیجیے گا، ہم خاموشی سے جائیں گے اور مل کر واپس آ جائیں گے۔ انکل ابھی جس ذہنی کیفیت میں ہیں، وہ شاید اس ملاقات کی حقیقت نہ سمجھ پائیں، لیکن آپ کے مستقبل اور ذہنی سکون کے لیے یہ آخری ملاقات ضروری ہے۔" تانیہ نے شہروز کی طرف بے حد احسان مندی سے دیکھا۔ اسے محسوس ہوا کہ اس طوفان میں شہروز وہ کنارہ ہے جو اسے ڈوبنے نہیں دے گا۔
اسی دوران، فارم ہاؤس کے دوسرے کمرے میں شاہاب صاحب اور جمیل صاحب گہری سوچ میں ڈوبے ہوئے تھے۔ جمیل صاحب نے بات کا آغاز کیا: "شاہاب بھائی! ہم بچپن کے یار ہیں۔ میں جانتا ہوں آپ تانیہ کے لیے فکرمند ہیں، لیکن میرا بیٹا شہروز جذباتی ضرور ہے، مگر رشتوں کو نبھانا جانتا ہے۔ وہ تانیہ کے ماضی سے واقف ہے اور اسے اسی طرح قبول کرنے کو تیار ہے۔" شاہاب صاحب نے ٹھنڈی آہ بھری۔ "جمیل! مجھے تانیہ پر نہیں، بلکہ اس معاشرے اور ان لوگوں پر ڈر لگتا ہے جنہوں نے میری بیٹی کو صرف بدلے کا مہرہ بنایا۔ المیر اسی خون کا حصہ ہے، میں کیسے یقین کر لوں کہ وہ بھی ویسا نہیں ہوگا؟" رومیسہ جو دروازے کے پاس کھڑی یہ سب سن رہی تھی، اندر داخل ہوئی۔ "انکل! گناہ باپ کرے تو سزا بیٹے کو کیوں؟ المیر شاید برا نہ ہو، لیکن تانیہ اس وقت جس ذہنی اذیت میں ہے، اسے وہاں سے صرف شہروز بھائی نکال سکتے ہیں۔ آپ بس ایک بار شہروز پر بھروسہ کر کے دیکھیں۔" شاہاب صاحب نے رومیسہ کے سر پر ہاتھ رکھا۔ "بیٹی! میں تمہاری بات رد نہیں کر سکتا۔ لیکن میں تانیہ کو مجبور نہیں کروں گا۔ اسے خود فیصلہ کرنے دو۔"
دوپہر کے تین بج چکے تھے۔ تانیہ اور شہروز پارک کے ایک دور افتادہ کونے میں پہنچے۔ شہروز نے تانیہ کو حوصلہ دیا: "گھبرائیے مت، میں یہیں قریب ہی ہوں۔ آپ جا کر بات کریں۔" تانیہ جب المیر کے قریب پہنچی، المیر کی آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے اس کی بے خوابی کا قصہ سنا رہے تھے۔ "تانیہ! تم آگئیں؟مجھے لگا تمہارے بابا تمہیں کبھی مجھ سے ملنے کی اجازت نہیں دیں گے۔" اس نے تانیہ کے پیچھے کھڑے شہروز کی طرف دیکھ کر پوچھا: "یہ تمہارے ساتھ کون آیا ہے؟"
تانیہ نے سنجیدگی سے جواب دیا: "یہ شہروز ہیں، میرے بابا کے بہترین دوست کے بیٹے اور میرے فیملی فرینڈ۔ ہم ان کی بہن کی شادی کی تقریب کے لیے فارم ہاؤس میں رکے ہوئے تھے۔ شہروز نے ہی مجھے یہاں آنے کا حوصلہ دیا ہے المیر، ورنہ میں تو ہمت ہار چکی تھی۔ وہ ایک سچا دوست ہے، تمہاری طرح نہیں جس نے رشتوں کو بدلے کی آگ میں جھونک دیا۔" المیر نے تڑپ کر صفائیاں دیں، مگر تانیہ کا فیصلہ اٹل تھا۔ "المیر! محبت صرف پانے کا نام نہیں ہے۔ تمہارے گھر والوں نے میرے باپ کی عزت اچھالی ہے۔ میں کیسے اس گھر میں واپس جا سکتی ہوں جہاں میرے بابا کے دشمن بستے ہیں؟ میں خلع لے رہی ہوں۔ میرا اور تمہارا راستہ اب الگ ہے۔"
المیر کا چہرہ سفید پڑ گیا۔ "تانیہ! یہ تم نہیں کہہ رہی، یہ تمہارے بابا اور اس شہروز کا اثر بول رہا ہے۔" تانیہ نے مڑ کر شہروز کی طرف دیکھا۔ "نہیں المیر! یہ میری خودداری بول رہی ہے۔ شہروز! چلیں یہاں سے۔" تانیہ اور شہروز جب گاڑی کی طرف جا رہے تھے، تو المیر پیچھے سے پکارتا رہ گیا، لیکن تانیہ نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ گاڑی میں بیٹھ کر تانیہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔ شہروز نے خاموشی سے گاڑی چلائی، وہ جانتا تھا کہ یہ آنسو ایک پرانے بوجھ کے اترنے کے ہیں۔
لیکن کیا المیر اتنی آسانی سے سب ختم ہونے دیتا؟ پارک میں تانیہ کے جانے کے بعد المیر وہیں زمین پر بیٹھ گیا۔ اس کے آنسو اس کی ٹھوڑی سے ہوتے ہوئے خشک زمین پر گر رہے تھے۔ اس نے لرزتی آواز میں خود سے کلام کیا: "میں تانیہ کو کسی اور کا کیسے ہونے دے سکتا ہوں؟ وہ میری زندگی ہے، میری سانس ہے۔ میں انکل کے پاؤں میں پڑ جاؤں گا، ان سے معافی مانگوں گا، ان کے آگے ہاتھ جوڑوں گا۔۔۔ مگر میں تانیہ کو نہیں کھو سکتا۔ میرے ماں باپ کی نفرت کی سزا مجھے کیوں مل رہی ہے؟ میرا کیا قصور ہے کہ میری محبت مجھ سے چھینی جا رہی ہے؟" المیر کی آنکھوں میں انتقام کے بجائے ایک جان لیوا بے بسی تھی، وہ اپنی بربادی کا ذمہ دار شہروز کو سمجھ رہا تھا لیکن اس کا ٹوٹا ہوا دل صرف تانیہ کی واپسی کی بھیک مانگ رہا تھا۔
شام ڈھلنے کو تھی جب شہروز اور تانیہ فارم ہاؤس واپس پہنچے۔ شاہاب صاحب لاؤنج میں بے چینی سے ٹہلتے ہوئے ان کا انتظار کر رہے تھے۔ انہیں دیکھتے ہی ان کے ماتھے پر بل پڑ گئے اور وہ بولے: "تانیہ! شہروز! تم دونوں کو اتنی دیر کہاں لگ گئی؟ ہمیں شام ہونے سے پہلے واپسی کا سفر بھی شروع کرنا ہے۔" تانیہ نے نظریں جھکا کر دبی آواز میں سچ بول دیا: "ببا! وہ۔۔۔ ہم المیر سے ملنے گئے تھے۔"
یہ سننا تھا کہ شاہاب صاحب کی زوردار آواز پورے ہال میں گونجی: "کیا؟ میرے منع کرنے کے باوجود تم اس شخص سے ملنے گئیں؟" ان کے چہرے پر غصے اور صدمے کی لہر دوڑ گئی۔ تانیہ کی گھبراہٹ دیکھ کر شہروز فوراً آگے بڑھا اور بڑے تحمل مگر مضبوط لہجے میں کہا: "انکل! تانیہ اکیلی نہیں گئی تھی، میں خود اسے لے کر گیا تھا۔" شہروز کے اس جرات مندانہ اعتراف پر شاہاب صاحب کچھ پل کے لیے ساکت رہ گئے۔
کچھ دیر کی خاموشی کے بعد، شاہاب صاحب کے غصے کی لہر کچھ کم ہوئی، جیسے انہیں شہروز کی سچائی نے متاثر کیا ہو۔ انہوں نے تانیہ کو اپنے پاس بٹھایا اور نرمی سے کہا: "بیٹی! جمیل صاحب اور شہروز نے پہلے ہی مجھ سے بات کی تھی۔ میں نے تمہارے لیے ایک نیا فیصلہ کیا ہے۔" تانیہ نے ڈرتے ڈرتے شہروز کی طرف دیکھا، جو اب مسکرا رہا تھا۔ شاہاب صاحب نے جمیل صاحب کی طرف دیکھ کر کہا: "اگر تانیہ کو اعتراض نہ ہو، تو میں شہروز کا رشتہ قبول کرنے کے لیے تیار ہوں۔ لیکن پہلے ہمیں المیر سے قانونی طور پر الگ ہونا ہوگا۔"
تانیہ کے دل پر جیسے برسوں پرانا کوئی بھاری بوجھ ہٹ گیا۔ اس نے شرماتے ہوئے آہستہ سے اپنا سر جھکا لیا—یہ اس کی خاموش رضامندی تھی۔ رومیسہ نے خوشی سے تالی بجائی اور چہک کر بولی: "مبارک ہو بھائی! میں نے کہا تھا نا کہ بہار کے سنگ خوشیاں ضرور آئیں گی۔" لیکن دوسری طرف، پارک میں تنہا رہ جانے والے المیر کے ٹوٹے ہوئے دل میں اب ایک ہی سوال گردش کر رہا تھا کہ کیا وہ واقعی اپنی زندگی کی بہار کو اتنی آسانی سے کسی اور کے نام ہونے دے گا؟
قانونی انتباہ اور جملہ حقوق
وضاحتی بیان : یہ کہانی مکمل طور پر ایک افسانوی تحریر ہے۔ اس کے تمام کردار، نام، مقامات اور واقعات مصنفہ کے تخیل کی تخلیق ہیں۔ کسی بھی حقیقی شخص (زندہ یا مردہ) یا حقیقی واقعات سے کوئی بھی مماثلت محض اتفاقیہ ہوگی۔
جملہ حقوق بحق مصنفہ محفوظ ہیں © 2026 عشرت خانم
کاپی رائٹ نوٹس: اس اشاعت (کہانی) کا کوئی بھی حصہ مصنفہ کی پیشگی تحریری اجازت کے بغیر کسی بھی شکل میں یا کسی بھی ذریعے (بشمول فوٹو کاپی، ریکارڈنگ، سوشل میڈیا پوسٹس، یوٹیوب ویڈیوز، آڈیو بکس یا دیگر الیکٹرانک و مکینیکل طریقوں) سے دوبارہ شائع، تقسیم یا منتقل نہیں کیا جا سکتا۔ کسی بھی غیر قانونی استعمال یا چوری کی صورت میں سخت قانونی کارروائی کرنے کا حق محفوظ رکھا جاتا ہے۔

Comments
Post a Comment