بہار کے سنگ - قسط نمبر18


 

بہار کے سنگ

   18 : قسط نمبر


وکیل کے چیمبر میں پھیلی خاموشی کسی قبرستان کے سناٹے سے زیادہ بوجھل تھی۔ تانیہ میز کے دوسری طرف بیٹھی تھی، جہاں دھوپ کی ایک لکیر کھڑکی سے چھن کر پرانی فائلوں پر پڑ رہی تھی۔ اس کے سامنے اس کا فون رکھا تھا جو بار بار لرز رہا تھا۔ المیر کے ان ریڈ  میسجز کی نوٹیفیکیشنز اس کے دل پر ہتھوڑے کی طرح لگ رہی تھیں۔ اس میں ہمت نہیں تھی کہ وہ ان پیغامات کو کھولنے کی جسارت کر پاتی۔ اسے خوف تھا کہ اگر اس نے ایک بھی لفظ پڑھ لیا تو شاید اس کی رہی سہی ہمت جواب دے جائے گی۔

وکیل صاحب اپنی عینک درست کرتے ہوئے شاہاب صاحب سے خلع کے قانونی نکات پر بات کر رہے تھے، لیکن تانیہ کے کانوں میں آوازیں صرف گونج بن کر ٹکرا رہی تھیں۔ اسے اپنا وجود کانچ کی طرح کرچی کرچی ہوتا محسوس ہو رہا تھا۔

"تانیہ بیٹی؟ کیا آپ میری بات سن رہی ہیں؟" وکیل صاحب نے شفقت سے پوچھا۔

تانیہ نے چونک کر سر اٹھایا۔ اس کی آنکھوں کے گرد پڑے سیاہ حلقے اس کی کئی راتوں کی بے خوابی کا پتہ دے رہے تھے۔ اس نے ہولے سے گردن ہلائی۔ پاس ہی بیٹھا شہروز، جو اب تک خاموش تھا، تانیہ کی کیفیت کو بھانپ گیا تھا۔ وہ یہاں صرف ایک دوست کے طور پر نہیں، بلکہ ایک مضبوط سہارے کے طور پر موجود تھا۔ اس نے دیکھا کہ تانیہ کے ہاتھ لرز رہے ہیں۔

"تانیہ،" شہروز نے بہت دھیمے لہجے میں کہا، "اگر آپ تھک گئی ہیں تو ہم تھوڑی دیر باہر بیٹھ سکتے ہیں۔ یہاں کوئی آپ پر زبردستی نہیں کر رہا۔ آپ کی مرضی سب سے مقدم ہے۔"

تانیہ نے شہروز کی طرف دیکھا۔ اس کی آنکھوں میں ممنونیت تھی، "نہیں شہروز! یہ بوجھ جتنا جلد اتر جائے، اتنا ہی بہتر ہے۔ خلع لینا صرف کاغذوں سے آزاد ہونا نہیں ہے، یہ اپنے اندر کے اس مان کو ختم کرنا ہے جو میں نے کبھی المیر کے نام کیا تھا۔ یہ تکلیف دہ ہے، بہت تکلیف دہ۔"

شاہاب صاحب نے بیٹی کا ہاتھ تھاما۔ "بیٹا، قانون آپ کو حق دیتا ہے۔ المیر نے جو رویہ رکھا، اس کے بعد یہی ایک راستہ بچا ہے۔"

تانیہ کی آنکھوں سے ایک آنسو ٹپک کر فائل پر گرا۔ "بابا، قانون تو حق دیتا ہے، لیکن معاشرہ؟ وہ تو صرف یہ دیکھے گا کہ ایک عورت نے گھر بسانے میں ناکامی کھائی۔ کوئی یہ نہیں پوچھے گا کہ اس عورت کے جذبات کا خون کس نے کیا؟ خلع لینا ایسا ہے جیسے زندہ جسم سے روح کو الگ کرنا۔"

دوسری طرف، المیر اپنے گھر کے ہولناک سناٹے میں گھرا ہوا تھا۔ اس کی ماں، آسیہ بیگم، کمرے میں لیٹی ہوئی تھیں، جنہیں ابھی ابھی نرس نے سکون آور انجکشن دیا تھا۔ المیر نے ان کا زرد چہرہ دیکھا تو اسے پہلی بار احساس ہوا کہ اس کی انا نے صرف تانیہ کو نہیں، اس کی ماں کو بھی اذیت دی ہے۔ وہ تیار ہو کر آفس جانے کے لیے نکلا، مگر اس کے ذہن میں تانیہ کا خیال کسی سائے کی طرح ساتھ تھا۔ اس نے سوچ لیا تھا کہ وہ اتنی آسانی سے ہار نہیں مانے گا۔ اس نے اپنے وکیل کو فون کیا، "ایڈوکیٹ صاحب! مجھے ایک لیگل نوٹس تیار کرنا ہے۔ میں ثابت کروں گا کہ تانیہ کو اس کے باپ اور اس شہروز نے ورغلا کر اپنے پاس رکھا ہوا ہے اور اب اسے علیحدگی لینے پر مجبور کر رہے ہیں۔ وہ اس معاملے پر اپنے وکیل سے دو ٹوک بات کرنا چاہتا تھا۔"

گاڑی چلاتے ہوئے المیر کی نظریں سامنے سڑک پر تھیں، مگر دماغ میں وہ تمام پل گھوم رہے تھے جب تانیہ اس کے ایک اشارے پر اپنی زندگی وارنے کو تیار تھی۔ آج وہی تانیہ اس سے دور بھاگ رہی تھی۔ اسے اپنے مینیجر کی بات یاد آئی کہ جرمن کلائنٹ نے ڈیل کینسل کر دی ہے۔ کروڑوں کا نقصان! "کاش میں تانیہ کے پاس ہوتا، وہ ہمیشہ مجھے حوصلہ دیتی تھی،" اس نے بے اختیاری میں سوچا، مگر پھر فوراً غصے نے جگہ لے لی۔ "نہیں! اس نے مجھے چھوڑا ہے، اب وہ بھگتے گی۔" اسی دوران اسے اپنے وکیل کا میسج ملا کہ صوفیہ پھوپھو کی وصیت کے اصل کاغذات موصول ہو گئے ہیں۔ اسے آج ہی ایڈوکیٹ چیمبر پہنچنا تھا تاکہ جائیداد کے معاملات دیکھ سکے۔

المیر نے آفس پہنچ کر منیجر کو اپنے روم میں بلوایا اور اکاؤنٹس کی فائل لانے کو کہا۔ ساری فائلز چیک کرنے کے بعد منیجر نے اسے ایک فائل دی، "سر! یہ آپ کے لیے ایک کاپی بھجوائی ہے ایڈوکیٹ صاحب نے۔ آج صبح 11 بجے آپ کی ان سے ملاقات ہے۔ انہوں نے بہت ریکویسٹ کی ہے کہ آپ ضرور ان کے چیمبر میں تشریف لائیں، آج وہاں مس تانیہ کو بھی پہنچنے کا نوٹس بھیجا گیا ہے۔ سر، آپ کی میٹنگز پینڈنگ ہیں، ان کو لازمی اٹینڈ کریں۔"

المیر نے کچھ سوچ کر کہا، "آج آپ میٹنگز دوپہر 3 بجے کے بعد رکھ لیں۔ میں آج سارے میٹر دیکھ لوں گا۔ میں اب چیمبر کی طرف جا رہا ہوں۔"

منیجر نے رُک کر کہا، "سر، ایک بات اور! جہانگیر صاحب بہت تیزی سے اپنے پرسنل اکاؤنٹس سے پیسے نکال رہے ہیں۔ آپ کے علم میں یہ بات آ جائے اس لیے آپ کو بتایا۔ سر، وہ میڈم صوفیہ کے اکاؤنٹس فی الحال فریز ہو گئے ہیں جیسا کہ کورٹ کا حکم ہے۔ جب تک ان کی بیٹی پیش نہیں ہو جاتی اور اپنی والدہ کا ڈیتھ سرٹیفکیٹ پیش نہیں کرتیں، تب ہی انہیں وہ سب ملے گا۔"

المیر نے منیجر کا شکریہ ادا کیا، "آپ نے میری غیر موجودگی میں کافی اچھے سے سب سنبھالا۔ خیر، میں ہو کر آتا ہوں، آپ میٹنگز کے انتظامات کریں۔"

گاڑی کی طرف بڑھتے ہوئے المیر کے ذہن میں خیالات کا طوفان تھا۔ "آج تانیہ سے ملاقات ہو جائے گی۔ تانیہ کو لگتا ہے میں اس کے پیسے کے لیے اسے واپس حاصل کرنا چاہتا ہوں، کتنا غلط سوچتی ہے۔ میں اور مما تو کب سے صوفیہ پھوپھو کی فیملی کو ڈھونڈ رہے تھے تاکہ ان کا حق ان تک پہنچا سکیں۔ شہروز! تم نے ہمارے بیچ میں آ کر جو مسئلہ بڑھا دیا ہے، میں بھی دیکھتا ہوں کہ تانیہ مجھ سے خلع کیسے لیتی ہے۔ اب میں بتاؤں گا! اب بات میری عزت اور انا کی ہے۔ میں نے خلوص نیت سے چاہا اور ساتھ مانگا، اگر میرے پیرنٹس نے کچھ برا کیا تو کیا تانیہ مجھے سزا سنائے گی؟ ایک بار بھی مجھ پہ رحم نہیں آیا؟ نیا دوست، نیا ہم سفر بھی چن لیا؟ اتنی بے اعتباری، اتنی جلدی بدل گئی؟ کیا دولت ہی معیار ہے رشتے کو ناپنے کا؟ آج پوچھوں گا کہ کتنے میں خریدا ہے شہروز نے۔" اس نے سن گلاسز لگائے اور گاڑی میں بیٹھ کر اسٹارٹ کی۔ اب اس کی منزل چیمبر ہاؤس تھا۔

دوسری طرف شاہاب صاحب کو کال موصول ہوئی۔ "سر! آپ کو آج ایڈوکیٹ صاحب نے 11 بجے اپنے چیمبر میں بلایا ہے۔ مس تانیہ کے کیس کے لیے ان کی والدہ کی وصیت پر ڈسکشن کرنی ہے۔ آپ لازمی آئیے گا۔" کہہ کر فون بند ہو گیا۔ شاہاب صاحب تانیہ کے وکیل سے مل کر شہروز کے پاس آئے، "شہروز، چیمبر ہاؤس جانا ہے، وہاں آج لازمی ملنا ہے، تانیہ کو بلایا ہے وہاں۔ المیر بھی وہاں ہو گا۔ تم نے تانیہ کو اکیلا نہیں چھوڑنا۔" شہروز نے سر ہلا کر یقین دلایا اور وہ تانیہ کو لے کر چیمبر ہاؤس کی طرف جانے لگے۔

چیمبر ہاؤس میں داخل ہوتے وقت تانیہ کا سامنا المیر سے ہوا۔ دونوں کی نظریں ٹکرائیں، ایک میں پچھتاوا اور غصہ تھا تو دوسری میں کرب اور بیزاری۔ وہ خاموشی سے اندر داخل ہوئے جہاں دونوں پارٹیز رائٹ اور لیفٹ سائیڈ پر بیٹھ گئیں۔

وکیل نے ایک گہرا سانس لیا اور بولنا شروع کیا: "المیر صاحب، اور تانیہ بی بی! آپ دونوں کو شاید اس بات کا علم نہیں ہے کہ صوفیہ بیگم خود بھی اس حقیقت سے بے خبر تھیں کہ ان کے والدین نے اپنی زندگی میں ہی تمام جائیداد، فیکٹریز اور کمپنی کے شیئرز براہِ راست ان کے نام کر دیے تھے۔ یہ فائل میرے پاس برسوں سے امانت تھی، جس میں واضح ہدایت تھی کہ صوفیہ بیگم کی وفات کی صورت میں یہ جائیداد خود بخود ان کی اکلوتی بیٹی یعنی تانیہ کو منتقل ہو جائے گی۔ اب عدالت کے حکم کے مطابق، تانیہ اس تمام تر جائیداد کی واحد قانونی وارث ہیں۔"

تانیہ نے بے یقینی سے وکیل کی طرف دیکھا، "کیا؟ یعنی میری ماما کو بھی نہیں پتہ تھا؟" اس کی آواز لرز رہی تھی۔ المیر کا رنگ فق ہو گیا۔ اس نے کانپتے ہاتھوں سے وہ فائل اٹھائی جس میں صاف لکھا تھا کہ جہانگیر صاحب کا اس جائیداد پر کوئی حق نہیں ہے، اور وہ نہ تو کمپنی کے شیئرز بیچ سکتے ہیں اور نہ ہی کوئی بزنس ڈیل کر سکتے ہیں۔

تانیہ اپنی کرسی سے اٹھی اور المیر کے بالکل سامنے آ کھڑی ہوئی۔ اس کی آنکھوں میں اب وہ پرانی تانیہ نہیں تھی جو ڈر جاتی تھی۔ "المیر! تم نے ہمیشہ مجھے ایک بے جان گڑیا سمجھا، مگر آج دیکھ لو، میری ماں نے مر کر بھی مجھے وہ سہارا دیا جو تم جیتے جی نہ دے سکے۔ اب مجھے تمہارے کسی مہر یا کسی احسان کی ضرورت نہیں ہے۔"

المیر کے پاس اب کہنے کو کچھ نہ تھا۔ وہ جو تانیہ کو جھکانے آیا تھا، خود ایک ایسی ذلت کے گڑھے میں گر چکا تھا جہاں سے نکلنا اب ممکن نہ تھا۔

جملہ حقوق بحق مصنفہ محفوظ ہیں © 2026 عشرت خانم اس تحریر کے تمام جملہ حقوق (Intellectual Property Rights) مصنفہ عشرت خانم (عرف عشرت زاہد) کے پاس محفوظ ہیں۔ اس کہانی، کرداروں، یا اس کے کسی بھی حصے کو مصنفہ کی پیشگی تحریری اجازت کے بغیر کسی بھی شکل میں (بشمول فوٹو کاپی، ریکارڈنگ، سوشل میڈیا پوسٹ، یا کسی دوسرے الیکٹرانک یا مکینیکل ذریعے سے) دوبارہ شائع، تقسیم یا کسی دوسرے پلیٹ فارم پر کاپی کرنا قانونی جرم ہے، جس پر قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔

وضاحتی بیان : یہ کہانی مکمل طور پر ایک افسانوی  تخلیق ہے۔ اس میں موجود تمام کردار، مقامات، واقعات اور مکالمات مصنفہ کے تخیل کا نتیجہ ہیں۔ کسی بھی حقیقی شخص (زندہ یا مردہ)، مقام یا واقعے سے کوئی بھی مماثلت محض ایک اتفاقیہ
عمل تصور کیا جائے گا۔ اس کہانی کا مقصد کسی فردِ واحد، ادارے، گروہ یا فرقے کی دل آزاری کرنا ہرگز نہیں ہے۔


Comments

"سب سے زیادہ پڑھے جانے والے ناولز"

"میرا حصار: عزت یا اذیت؟"(مکمل ناول)

بہار کے سنگ قسط نمبر: 23

بہار کے سنگ قسط نمبر22