بہار کے سنگ - قسط نمبر 19


بہار کے سنگ 

- قسط نمبر 19


چیمبر میں کارروائی کے اختتام پر تانیہ اور المیر باہر نکلتے ہوئے ایک دوسرے کو دیکھتے ہیں، مگر خاموشی کا ایک بوجھل احساس دونوں کے درمیان حائل ہو جاتا ہے۔ دونوں اپنی اپنی منزلوں کی طرف روانہ ہو جاتے ہیں۔

گاڑی میں بیٹھتے ہی شہروز نے یاد دلایا: "انکل! آج رات آپ نے فنکشن میں آنا ہے اور تانیہ کو بھی ساتھ لانا ہے تاکہ اس کا دل ذرا بہل جائے۔ یہ سب اتنا آسان نہیں ہے، اسے تھوڑا وقت دیں تاکہ وہ خود فیصلہ کر سکے۔ اس پر کسی قسم کا دباؤ نہ ہو اور یہ ضروری بھی نہیں کہ وہ لازمی مجھے ہی چنے۔ انکل! میں اس کی خوشی چاہتا ہوں، اسے آگے بڑھتا ہوا دیکھنا چاہتا ہوں۔ میں نہیں چاہتا کہ وہ میرے یا آپ کے کہنے پر کوئی فیصلہ لے۔ یہ اس کی زندگی ہے اور اسے جینے کا پورا حق ہے۔"

تانیہ واپسی پر بالکل خاموش رہی۔ شہاب صاحب نے بھی محسوس کیا کہ اس وقت تانیہ کو کسی مشورے کے بجائے سہارے اور سکون کی ضرورت ہے، اس لیے انہوں نے اسے اپنے حال پر چھوڑ دیا۔

گھر پہنچ کر تانیہ سیدھی اپنے کمرے میں چلی گئی۔ اس نے کھانا کھانے سے صاف انکار کر دیا اور کہا کہ وہ آرام کرنا چاہتی ہے، اسے کوئی ڈسٹرب نہ کرے۔ کمرہ بند کر کے وہ بیڈ پر بیٹھ گئی اور اس کی آنکھیں چھلک پڑیں۔ "آخر میں خود کیا چاہتی ہوں؟ کوئی مجھے کیوں نہیں سمجھتا؟ میں بھی ایک انسان ہوں، میری بھی کچھ فیلنگز ہیں۔ میں جس تکلیف سے گزر رہی ہوں وہ صرف میں جانتی ہوں، لوگ کیسے یہ سمجھ سکتے ہیں؟" روتے روتے اسی حالت میں بیڈ پر اس کی آنکھ لگ گئی۔

دوسری طرف شہروز گھر آیا تو سیدھا رومیسہ کے پاس گیا۔ اسے سیلون لے کر جانا تھا کیونکہ برائیڈل اپوائنٹمنٹ تھی۔ جب وہ کمرے کے پاس پہنچا تو اسے اپنی ماں کی آواز آئی جو رومیسہ سے کہہ رہی تھیں: "میں تانیہ کو بچپن سے جانتی ہوں اور بہت پیار کرتی ہوں۔ اتنی سلجھی ہوئی لڑکی ہے، بس نصیب سے کوئی لڑ نہیں سکتا۔ میں چاہتی ہوں اسے اپنے گھر لے آؤں۔ اس کی ماں بھی جلدی چلی گئی، اب شہروز اسے وہ سکھ دے جو ایک لڑکی اپنے شوہر سے چاہتی ہے۔"

شہروز نے دروازہ کھٹکھٹایا۔ اندر سے رومیسہ کی آواز آئی: "آ جائیے۔" شہروز اندر داخل ہوا: "رومیسہ! سیلون جانا ہے، تمہاری اپوائنٹمنٹ تھی۔" "جی بھائی مجھے یاد ہے، بس یہ سامان گاڑی میں رکھوا دیں، میں مما سے بات کر رہی تھی۔ کیا بنا تانیہ کا؟ آج آپ ان کی طرف گئے تھے؟" رومیسہ نے پوچھا۔ شہروز نے کہا: "میں بتاؤں گا، پہلے چلو ہم لیٹ ہو رہے ہیں۔ میں باہر رہتا ہوں، وہاں سب وقت کی قدر کرتے ہیں، یہاں پاکستان جب سے آیا ہوں لوگوں کو وقت کی پرواہ کرتے نہیں دیکھا۔ جو ٹائم دیا ہے اس پر پہنچو۔" "جی بھائی بس آئی! پرس لے لوں اور موبائل بھی۔" رومیسہ نے میز سے فون اٹھایا۔ "مما! میں ریڈی ہو کر بھائی کو فون کروں گی۔ میرے ساتھ میری فرینڈ شیبا جا رہی ہے، وہ پہنچ بھی گئی ہے، اس کے میسجز آ رہے ہیں۔ بھائی صحیح کہہ رہے ہیں ہم لیٹ ہو رہے ہیں۔" وہ باہر کی طرف بڑھی۔

گاڑی میں بیٹھ کر رومیسہ سے مزید رکا نہ گیا۔ "بائی! بتا تو دیں کیا ہوا؟ وہاں المیر بھی آیا ہوگا؟" "جی آیا تھا، ماموں کا بیٹا ہے، انکل کو کال بھی آئی تھی۔" شہروز نے بتانا شروع کیا۔ "انکل، تانیہ اور میں وہاں گئے تھے۔ صوفیہ آنٹی کی وصیت کے بارے میں ان کے والدین نے جائیداد صوفیہ آنٹی کے نام کی تھی، جو ان کی وفات کے بعد ان کی اولاد کو ٹرانسفر ہونی تھی۔ اس پر المیر یا اس کے والد کا کوئی حق نہیں ہے۔ عدالت نے اکاؤنٹس تک فریز کر دیے ہیں۔ جب تک تانیہ عدالت میں پیش ہو کر صوفیہ آنٹی کا ڈیتھ سرٹیفکیٹ نہیں دکھاتی، یہ سب اسے نہیں ملے گا۔"

شہروز نے بات جاری رکھی: "المیر اتنا برا نہیں لگا، اس کی مما کو بھی دیکھا۔ اصل مسئلہ اس کے بابا کا ہے، وہ سارے شیئرز اور پراپرٹی بیچنے کے چکر میں ہیں۔ میں نے پتہ کروایا تھا، انکل نے کہا تھا کہ چھان بین کرو۔ مجھے المیر اور اس کی والدہ کی کوئی سازش نظر نہیں آئی۔ انکل بدگمان ہیں کیونکہ صوفیہ آنٹی کے ساتھ زیادتی ہوئی تھی۔ انکل تو اب بھی اس پراپرٹی میں انٹرسٹڈ نہیں ہیں، لیکن میں چاہتا ہوں تانیہ بااختیار بنے، اپنی مما کے بزنس کو خود سنبھالے، اس طرح وہ ذہنی طور پر مضبوط بھی ہوگی۔"

رومیسہ نے پوچھا: "اگر بھائی انٹرسٹڈ نہیں ہیں تو تانیہ کیا کہتی ہے؟" "تانیہ کو بس ایک چپ لگی ہے۔ میں نے ایک دوست ہونے کے ناطے اسے یقین دلایا ہے کہ وہ جو بھی فیصلہ لے، سوچ سمجھ کر لے۔ اگر اسے المیر پسند ہے تو وہ کھل کر کہے۔ منافقت والی زندگی نہیں گزاری جا سکتی۔ اگر اسے آج خلا لے کر یہ احساس ہوا کہ یہ جلد بازی میں ہوا ہے تو اسے سوچنے کا موقع ملنا چاہیے۔ میرے معاملے میں کوئی زبردستی نہیں، وہ پورے دل سے مجھے اپنائے، کسی کے کہنے پر نہیں۔"

"بھائی! میں نے تو سوچا تھا کہ آپ کے جانے سے پہلے میں آپ کے نکاح میں شریک ہو جاؤں گی، مجھے تو اپنے شوہر کے ساتھ باہر جانا ہے۔" رومیسہ نے جذباتی ہو کر کہا۔ "میں بھی تو آؤں گا باہر سے اپنے نکاح پر، تم بھی آ جانا۔ اور اب جاؤ سیلون آ گیا ہے، وہ دیکھو وہ لڑکی شاید تمہاری فرینڈ ہے، دور سے ہی غصے میں نظر آ رہی ہے۔" "ہاں صحیح کہہ رہے ہیں، وہی ہے۔ بھائی آپ فون پاس رکھیے گا، فوٹو سیشن بھی ہوگا تو آپ لیٹ مت ہوئیے گا۔" رومیسہ اندر چلی گئی اور شہروز نے اس کا بیگ گارڈ کے ذریعے اندر بھجوا دیا۔

شہروز گاڑی میں آ کر بیٹھا ہی تھا کہ فون بجنے لگا۔ سائیڈ پاکٹ سے فون نکال کر دیکھا تو کوئی نامعلوم نمبر تھا۔ اس نے فون اٹھایا۔ دوسری طرف سے آواز آئی: "شہروز سے بات کرنی ہے۔" "جی، آپ کون بات کر رہی ہیں؟" خاتون نے اپنا تعارف کروایا: "میں المیر کی والدہ ہوں۔ میں نے بڑی مشکل سے آپ کا نمبر پتہ کروایا ہے۔ شہاب بھائی نے میرا نمبر بلاک کیا ہوا ہے، مجھے بہن بنا کر وہ خود بدل گئے ہیں۔ مجھے المیر نے بتایا ہے کہ تم تانیہ کے فرینڈ ہو۔ میں بس اتنا کہنا چاہتی ہوں کہ تانیہ کو سمجھاؤ وہ المیر کو نہ چھوڑے۔ میں موت کے منہ سے واپس آئی ہوں، اپنے بیٹے کا گھر آباد دیکھنا چاہتی ہوں۔ میں نہیں چاہتی کہ میرے بیٹے کو میرے شوہر کے کیے کی سزا ملے۔ میں ایک ماں ہوں، تم بھی کسی کے بیٹے ہو، تم نے بھی کسی سے محبت کی ہوگی۔ المیر اسے بہت چاہتا ہے۔ ہمیں صوفیہ کی پراپرٹی سے کوئی لینا دینا نہیں، میں تو خود ڈھونڈ رہی تھی تاکہ ان کی امانت ان تک پہنچا دوں۔ مجھے نہیں معلوم تھا کہ شہاب بھائی ہی صوفیہ کے شوہر اور تانیہ ان کی بیٹی ہوگی۔ ہم نے کوئی پلاننگ نہیں کی، میں تو خود شوہر کا گھر چھوڑ کر اپنے والد کے گھر آ گئی ہوں۔ بیٹا! تمہیں بہت اچھی لڑکی ملے گی، تم بیچ میں سے ہٹ جاؤ تاکہ تانیہ کا دل المیر کی طرف مڑ جائے۔ میں ان دونوں کو ایک ساتھ دیکھ کر مرنا چاہتی ہوں۔"

شہروز نے صبر سے ساری بات سنی اور کہا: "آنٹی! تانیہ پر کسی طرح کا کوئی دباؤ نہیں ہے۔ وہ ابھی سوچ رہی ہے، ابھی کیس فائل نہیں کیا گیا، بس وکیل سے مشورہ ہوا ہے۔ اب جو بھی ہوگا وہ تانیہ کا اپنا فیصلہ ہوگا، میں کچھ نہیں کر سکتا، میں بس ایک دوست ہوں۔ خلا لینا تانیہ کا پرسنل میٹر ہے، میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ مت لو۔ آنٹی! کچھ فیصلے وقت ہم سے کرواتا ہے اور جو ہمارے حق میں بہتر ہو وہی ہوتا ہے۔ آپ اللہ پر بھروسہ رکھیں، اگر ان دونوں کا ساتھ لکھا ہے تو کوئی جدا نہیں کر سکتا، اور اگر نہیں لکھا تو ہم کتنی بھی کوشش کر لیں وہ نہیں مل سکتے۔ اپنا خیال رکھیے گا۔" شہروز نے فون بند کر دیا۔

المیر نے اپنی ماں کو آنسو بہاتے دیکھا تو اندر آ کر پوچھا: "امی! کس سے بات کر رہی تھیں؟ کیا بابا کی کال آئی تھی؟" "میں نے شہروز سے بات کی ہے۔" وہ روتے ہوئے بولیں۔ "امی! آپ نے کیوں بات کی ان سے؟ ان کے گھر کا کوئی بھی انسان بات سمجھنے کو تیار نہیں۔ سب سمجھتے ہیں کہ ہم نے یہ سب پلاننگ سے کیا ہے، آپ کی بیماری کا فائدہ اٹھایا ہے اور نکاح زبردستی کروایا ہے۔ انہیں کون سمجھائے؟ تانیہ مجھ سے اکیلی ملتی نہیں، کبھی انکل ہوتے ہیں کبھی وہ شہروز... میں بھی اب ضد میں آ گیا ہوں۔ میں اب تانیہ کو خلا نہیں دوں گا بلکہ اس کے فادر پر کیس کروں گا کہ میری بیوی کو اپنے گھر زبردستی رکھا ہے، مجھے ملنے نہیں دیتے اور اس پر خلا لینے کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں۔ کس بنیاد پر؟ میں نے کیا کیا ہے؟ میں تو صوفیہ پھوپھو کو ڈھونڈ رہا تھا، میں نے کون سی پراپرٹی اپنے نام کی؟ امی نے تو بابا سے چھپا کر امانت ان کے پاس رکھوائی تھی، پھر بھی مجھ پر شک کر رہے ہیں۔ امی! لوگ اتنی جلدی بدل جاتے ہیں، ہماری کوئی عزت نہیں؟ اب میں بتاؤں گا کہ المیر جہانگیر کون ہے۔ بہت سہہ لیا، اب نہیں۔ اب جو بھی بات ہوگی عدالت میں ہوگی!"

المیر یہ کہہ کر غصے میں باہر نکل گیا اور آسیہ بیگم کے چہرے کا رنگ اڑنے لگا۔ "المیر! کیا کر رہے ہو؟" ان کی آواز گلوگیر ہو گئی۔ وہ نیم بے ہوشی کی حالت میں صوفے پر گرنے لگیں...


 جملہ حقوق بحقِ مصنفہ محفوظ ہیں

اس ناول "بہار کے سنگ" کے تمام تر جملہ حقوق (تحریر، کردار اور پلاٹ) قانونی طور پر عشرت زاہد (Ishrat Zahid) کے نام محفوظ ہیں۔ مصنفہ کی تحریری اجازت کے بغیر اس کہانی کے کسی بھی حصے کو کسی دوسرے ویب پیج، بلاگ، یوٹیوب ویڈیو یا سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر کاپی، شیئر یا شائع کرنا قانونی جرم ہے اور ایسی صورت میں قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔

 قانونی وضاحتی بیان (Disclaimer)

یہ ایک افسانوی کہانی ہے جس کے تمام کردار، مقامات اور واقعات محض تخیل پر مبنی ہیں۔ اس کہانی کا مقصد کسی بھی فردِ واحد، ادارے، مذہب یا طبقے کی دل آزاری کرنا ہرگز نہیں ہے۔ اگر کہانی کے کسی واقعے یا کردار کی مشابہت کسی حقیقی زندگی کے واقعے سے ہوتی ہے تو اسے محض ایک اتفاق سمجھا جائے۔


© 2026 Ishrat Zahid | Zoaq Digital Novels. All Rights Reserved.

Comments

"سب سے زیادہ پڑھے جانے والے ناولز"

"میرا حصار: عزت یا اذیت؟"(مکمل ناول)

بہار کے سنگ قسط نمبر: 23

بہار کے سنگ قسط نمبر22