بہار کے سنگ قسط نمبر 20

بہار کے سنگ 

قسط نمبر 20 


بند کمرے کے حبس میں تانیہ کی سسکیاں اب خاموش ہو چکی تھیں، لیکن روح کا کرب نیند میں بھی پیچھا نہ چھوڑ سکا۔ خواب کے دھندلکوں میں اسے ایک جانا پہچانا لمس محسوس ہوا—وہی ممتا کی خوشبو، وہی ٹھنڈی چھاؤں جیسی آغوش۔

"مما! آپ کہاں چلی گئیں؟ میں بہت اکیلی ہو گئی ہوں..." تانیہ خواب میں اپنی ماں کے دامن سے لپٹ کر بچوں کی طرح رو رہی تھی۔ "کچھ سمجھ نہیں آ رہا مما، کیا المیر کو چھوڑ دوں؟ کیا پہلی محبت بھلائی جا سکتی ہے؟ کیا یہ سب اتنا ہی آسان ہوتا ہے؟"

اس نے ماں کے چہرے کو تکتے ہوئے اپنے دل کی وہ بات کہہ دی جو وہ کسی سے نہیں کہہ پا رہی تھی: "مما! میں نے المیر کو دل سے چاہا ہے۔ نہ جانے کب وہ میرے وجود کا حصہ بن گیا۔ شہروز بہت اچھا دوست ہے، مگر اسے اس نظر سے نہیں دیکھ پاتی جیسے المیر سے دلی طور پر جڑی ہوں۔ اس نے مجھے کبھی نقصان نہیں پہنچایا، وہ تو خود بے خبر تھا کہ میں ہی وہی کزن ہوں جسے وہ لوگ ڈھونڈ رہے ہیں۔"

تانیہ کی آواز میں ایک بے بسی تھی: "ببا کا مان ہے مجھ پر، وہ آپ کے دشمنوں کے گھر مجھے کبھی نہیں بھیجیں گے۔ مما میں اس دل کا کیا کروں؟ میں یہ سب بزنس کیسے سنبھالوں؟"

صوفیہ نے شفقت سے اس کے ماتھے پر ہاتھ رکھا اور دھیمی آواز میں بولیں: "تانیہ میری جان! ایک بات سنو، وہی کرو جو تمہیں صحیح لگتا ہے۔ تم اب کمزور نہیں ہو، ایک مضبوط لڑکی ہو جو اپنے پیروں پر کھڑی ہے۔ المیر بے قصور ہے، اگر تمہاری خوشی اس کے ساتھ رہنے میں ہے تو رک جاؤ۔ مزید وقت لو، جلد بازی میں کوئی فیصلہ نہ کرنا۔ میں جا رہی ہوں، اپنا خیال رکھنا۔"

"مما! نہ جائیں، پلیز رک جائیں..." تانیہ کی چیخ کے ساتھ ہی آنکھ کھل گئی۔

پورے کمرے میں سناٹا تھا، بس گھڑی کی سوئیاں اس کے دل کی دھڑکن کے ساتھ چل رہی تھیں۔ اس نے دیوار پر لگی گھڑی دیکھی، شام کے پانچ بج رہے تھے۔ کیا یہ صرف ایک خواب تھا؟ اسے اپنے گالوں پر اب بھی اپنی ماں کے لمس کی تپش محسوس ہو رہی تھی۔

"مما کہاں گئیں؟" اس نے بدحواسی میں کمرے کے کونے کونے کو دیکھا، مگر وہاں سوائے یادوں کے اور کچھ نہ تھا۔ ایک بار پھر آنسوؤں کا بندھ ٹوٹ گیا اور اس نے بیڈ پر پڑی اپنی ماں کی تصویر سینے سے لگا لی۔

پھر اچانک اسے اپنی ماں کے کہے الفاظ یاد آئے: "تم کمزور نہیں ہو!"

ان الفاظ نے جیسے اس کے اندر ایک نئی ہمت بھر دی۔ اس نے اپنے آنسو صاف کیے اور خود کو سنبھالا۔ یہ اس کا پل صراط تھا اور اسے یہ راستہ خود ہی پار کرنا تھا۔ وہ بستر سے اٹھی اور وضو کرنے کے لیے واش روم کی طرف بڑھ گئی—اسے اپنے اللہ سے مدد مانگنی تھی، وہی تھا جو اسے اس بھنور سے نکال سکتا تھا۔

تانیہ نے نماز پڑھ کر اللہ کے حضور سر بسجود ہو کر دعا مانگی۔ اسے اپنے اندر ایک عجیب سا سکون محسوس ہو رہا تھا۔ وہ اللہ ہی تو ہے جو دلوں کے حال سے واقف ہے، جو ان الفاظ کو بھی پڑھ لیتا ہے جو ہونٹوں تک نہیں آپاتے۔ وہ رب جو ستر ماؤں سے زیادہ پیار کرتا ہے، اس کے در سے کوئی خالی ہاتھ نہیں جاتا۔ اسی یقین کے ساتھ وہ اٹھی اور جائے نماز تہہ کر کے لاؤنج میں آئی جہاں شہاب صاحب فکر مند بیٹھے تھے۔

تانیہ کو دیکھ کر وہ تڑپ کر اٹھے، "بیٹا! آپ ٹھیک تو ہو؟" "جی بابا، میں بالکل ٹھیک ہوں۔" تانیہ نے دھیمی آواز میں جواب دیا۔ شہاب صاحب نے محبت سے کہا، "آپ نے دوپہر کا کھانا بھی نہیں کھایا، میں ملازمہ سے کہتا ہوں کہ جوس اور سینڈوچز بنا لائے۔"

تانیہ نے اپنا فون چیک کیا تو المیر کی کالز اور میسجز کی ایک طویل فہرست تھی۔ آخری میسج پر اس کے ہاتھ رک گئے: "تانیہ! اگر تم نہ ملیں تو میں انکل پر کیس کر دوں گا۔ میں نہیں چاہتا تھا کہ یہ بات میڈیا میں آئے، مگر تم نے مجھے مجبور کر دیا ہے۔ تمہارے پاس دو دن کا وقت ہے۔"

تانیہ کا دل ایک لمحے کو لرزا، مگر پھر اسے اپنی ماں کی بات یاد آئی: "تم کمزور نہیں ہو!" اب اس کے اندر اللہ کی دی ہوئی وہ ہمت تھی جو اسے کسی بھی دھمکی سے ڈرنے نہیں دے رہی تھی۔

شہاب صاحب نے اسے سوچوں میں گم دیکھا تو پوچھا، "بیٹا! کسی کا میسج ہے؟" تانیہ نے سنبھل کر جواب دیا، "نہیں بابا، بس رومیسہ کی کال تھی، آج اس کی رخصتی ہے، تیاری کرنی ہے۔"

شہاب صاحب نے اس کی پیشانی چومی اور گویا ہوئے، "تانیہ! آج میری آنکھ لگی تو خواب میں تمہاری مما آئی تھیں۔ وہ کہہ رہی تھیں کہ میری تانیہ کا خیال رکھنا۔" تانیہ چونک گئی، "بابا! کیا وہ آپ کے خواب میں بھی آئی تھیں؟" شہاب صاحب نے حیرت سے سر ہلایا، "ہاں! اسی لیے میں تمہارے کمرے تک آیا تھا، مگر تم گہری نیند میں تھی۔ بیٹا! میں تمہاری خوشی چاہتا ہوں۔ ماضی کو بھول جاؤ، تم پر کوئی دباؤ نہیں۔ اگر المیر کے ساتھ گھر بسانا چاہتی ہو تو میں تمہارے ساتھ ہوں۔" تانیہ اپنے بابا کے گلے لگ کر رو پڑی۔

المیر نے فون دیکھا، اس کا آخری میسج پڑھا جا چکا تھا۔ اس نے سوچ لیا تھا کہ اب وہ سیدھی انگلی سے گھی نہیں نکالے گا۔ اتنے میں فارم ہاؤس سے ملازمہ کی کال آئی کہ آسیہ بیگم کی طبیعت بگڑ گئی ہے۔ المیر پریشانی میں دفتر سے نکلا تو سامنے شہروز کی گاڑی نظر آئی۔ شہروز خود اس کی طرف آ رہا تھا۔

المیر نے گاڑی سے نکلتے ہی ایک کاغذ اس کی طرف بڑھایا، "اچھا ہوا تم مل گئے، یہ نوٹس میں تانیہ کے گھر بھیجنے والا تھا۔" شہروز نے نوٹس پڑھا جس میں المیر نے الزام لگایا تھا کہ تانیہ کو قید کر کے اس پر طلاق کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔

شہروز نے پرسکون لہجے میں کہا، "المیر! تمہاری مما کی کال آئی تھی، میں یہی بتانے آیا تھا کہ میں تانیہ کا صرف دوست ہوں۔ وہ تم سے محبت کرتی ہے، مگر تم اسے باپ اور محبت کے درمیان لا کھڑا کر رہے ہو۔ یاد رکھنا، انسان محبت کے بغیر جی لیتا ہے، مگر عزت پر سمجھوتہ نہیں کرتا۔ تمہاری یہ انا کہیں اس کی محبت کو نفرت میں نہ بدل دے۔"

یہ کہہ کر شہروز تو چلا گیا، مگر المیر وہیں ساکت رہ گیا۔ اس کے الفاظ المیر کے دل پر ہتھوڑوں کی طرح لگ رہے تھے۔ "میں اپنی محبت کا تماشا بنانے چلا تھا؟" اس نے غصے اور پچھتاوے میں وہ نوٹس پھاڑ کر پھینک دیا اور گاڑی فارم ہاؤس کی طرف دوڑا دی۔

"تانیہ! میں تمہیں کھونے سے ڈرتا ہوں۔ تم میری روح میں بستی ہو، میرے بغیر ادھوری ہو، واپس آ جاؤ..." المیر کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔

المیر کی گاڑی فارم ہاؤس کی حدود میں داخل ہو رہی تھی، مگر اس کا ذہن اب بھی شہروز کے الفاظ کی زد میں تھا۔ دوسری طرف تانیہ نے اپنے آنسو صاف کیے اور خود کو اس شام کے لیے تیار کرنا شروع کیا جو شاید اس کی زندگی کا رخ بدلنے والی تھی۔ اسے نہیں معلوم تھا کہ المیر کی انا اب پچھتاوے کی آگ میں جل رہی ہے، یا یہ کہ تقدیر نے ان دونوں کے لیے کیا فیصلہ کر رکھا ہے۔

(جاری ہے...)

جملہ حقوق بحقِ مصنفہ محفوظ ہیں

اس ناول "بہار کے سنگ" کے تمام تر جملہ حقوق (تحریر، کردار اور پلاٹ) قانونی طور پر عشرت زاہد (Ishrat Zahid) کے نام محفوظ ہیں。 مصنفہ کی تحریری اجازت کے بغیر اس کہانی کے کسی بھی حصے کو کسی دوسرے ویب پیج، بلاگ، یوٹیوب ویڈیو یا سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر کاپی، شیئر یا شائع کرنا قانونی جرم ہے اور ایسی صورت میں قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے。

قانونی وضاحتی بیان 

یہ ایک افسانوی کہانی ہے جس کے تمام کردار، مقامات اور واقعات محض تخیل پر مبنی ہیں。 اس کہانی کا مقصد کسی بھی فردِ واحد، ادارے، مذہب یا طبقے کی دل آزاری کرنا ہرگز نہیں ہے。 اگر کہانی کے کسی واقعے یا کردار کی مشابہت کسی حقیقی زندگی کے واقعے سے ہوتی ہے تو اسے محض ایک اتفاق سمجھا جائے。

© 2026 Ishrat Khanam/ Ishrat Zahid/Zoaq Isha| Zoaq Digital Novels. All Rights Reserved.







Comments

"سب سے زیادہ پڑھے جانے والے ناولز"

"میرا حصار: عزت یا اذیت؟"(مکمل ناول)

بہار کے سنگ قسط نمبر: 23

بہار کے سنگ قسط نمبر22