بہار کے سنگ میگا آخری (فائنل) قسط
بہار کے سنگ
میگا آخری (فائنل) قسط
اس کہانی کا وہ موڑ تھا جہاں تانیہ اور المیئر عدالت کے روبرو کھڑے تھے۔ تانیہ نے خلع کے کیس میں اپنا موقف بیان کرتے ہوئے بڑے وقار سے کہا: "میں یہ شادی بغیر کسی دباؤ کے ختم کرنا چاہتی ہوں۔ جس چیز نے مجھے سب سے زیادہ تکلیف دی، وہ المیئر سے میری لگی ہوئی توقعات تھیں۔ میرے نزدیک شادی ایک معاہدے سے زیادہ ایک مقدس بندھن کا نام ہے، جس میں دونوں فریقین کے حقوق برابری کی سطح پر ہوتے ہیں۔ ایک دوسرے کی عزت کرنا پہلی شرط ہے۔ محبت ہو نہ ہو، عزت پوری ملنی چاہیے۔ المیئر کی یہ کیسی محبت تھی جس نے میری عزتِ نفس کو کچل کر رکھ دیا اور مجھے محض ایک کھلونا سمجھا؟"
المیئر نے جواب میں جج صاحبہ سے مخاطب ہو کر کہا: "جج صاحبہ! میں آج بھی تانیہ سے شدت سے محبت کرتا ہوں۔ میں مانتا ہوں کہ میں تھوڑا شدت پسند ہوں اور تانیہ کو کسی اور کے ساتھ نہیں دیکھ سکتا۔ میں اپنے غصے پر قابو نہ رکھ سکا اور جو کچھ میں نے بولا، تانیہ اسے غلط سمجھ بیٹھی۔ میں اپنے اس سارے رویے اور ان الفاظ کی تانیہ سے معافی مانگتا ہوں۔ میں اس کے بغیر نہیں جی سکتا اور اب ایسا کچھ نہیں کروں گا جو اسے دکھ دے۔" دونوں کا موقف سننے کے بعد عدالت نے تانیہ کو دو دن کی مہلت دی کہ وہ سوچ سمجھ کر اپنا حتمی فیصلہ جمع کروائے۔ عدالت برخاست کر دی گئی۔
عدالت سے باہر آتے ہوئے المیئر بے اختیار تانیہ کی طرف بڑھا، لیکن شہاب صاحب نے آگے آ کر ہاتھ سے اسے روک دیا، جبکہ شہروز تانیہ کو گاڑی کی طرف لے گیا۔ تانیہ نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو المیئر تنہا کھڑا تھا اور اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔ تانیہ نے دل ہی دل میں کہا: "المیئر! اگر میں دل کی سنوں تو تمہارا ساتھ دیتی، لیکن تم نے میری عزتِ نفس کو ٹھیس پہنچائی ہے۔ وہ تانیہ تو کب کی مر گئی جو تم سے پیار کرتی تھی، آج جو تانیہ ہے وہ صوفیہ اور شہاب کی بیٹی ہے۔ تم نے بابا کے ساتھ بھی بدتمیزی کی۔ میں شہروز سے محبت نہیں کرتی اور شاید کبھی اس طرح کر بھی نہ سکوں، تم میری پہلی اور آخری محبت رہو گے، لیکن میں عزت کو پہلے چنتی ہوں۔ تمہیں لگا میں تمہاری دولت کی خاطر آگے آئی ہوں؟ تمہارے بابا نے میری ماما کو ساری عمر تڑپایا، وہ اپنے بھائی سے بات کرنے کو ترستی رہیں۔ تمہاری ماما نے اپنے فائدے کے لیے میری ماما اور بابا کو استعمال کیا اور ان کی شادی کو 'گھر سے بھاگنے' کا رخ دے کر نفرت کے بیج بوئے۔ میں کس کس بات کے لیے تمہیں معاف کروں؟"
تانیہ گاڑی کے پاس کھڑی یہ سب سوچ رہی تھی کہ آنسو اس کے گالوں پر آ گئے۔ شہروز نے دیکھ لیا تو تانیہ نے جلدی سے آنسو صاف کیے۔ شہروز نے گاڑی کا دروازہ کھولا، تانیہ پیچھے بیٹھ گئی اور شہاب صاحب فرنٹ سیٹ پر آ گئے۔
شہروز نے تانیہ کو ریلیکس کرنے کے لیے ایک جوس کارنر پر گاڑی روکی اور تین جوس لے کر آیا۔ اس نے شہاب صاحب سے کہا: "انکل! ابھی گھر جانا ہے یا فیکٹری؟ تانیہ کو اتھارٹی لیٹر جاری ہو گیا ہے، سینئر ایڈووکیٹ کے اسسٹنٹ نے مجھے دے دیا ہے۔" شہاب صاحب نے شہروز کا شکریہ ادا کیا: "تم نے میری ساری ذمہ داریاں نبھائیں، میں اتنے چکر نہیں لگا سکتا تھا۔ یہ سب میری صوفیہ کا حق تھا جو آج تانیہ کو ملا ہے۔ اب مجھے ڈر نہیں، تانیہ کا مستقبل ایک مضبوط انسان کے ساتھ ہے اور وہ مالی طور پر بھی مستحکم ہے۔"
دوسری طرف المیئر گاڑی چلاتے ہوئے سوچ رہا تھا کہ تانیہ کی بدگمانی کیسے دور کرے۔ اچانک ایک بچہ گاڑی کے سامنے آیا، اس نے زور سے بریک لگائی۔ شکر ہے بچہ بچ گیا، وہ صرف ڈر کر گرا تھا۔ المیئر نے گاڑی سائیڈ پر لگائی اور تھوڑی دیر آنکھیں بند کر کے خود کو پرسکون کیا۔ اتنے میں منیجر کی کال آئی: "سر! جہانگیر صاحب آئے ہوئے ہیں اور بہت غصے میں ہیں کہ میٹنگ کیوں ارینج نہیں کی، آپ جلدی آئیں۔" المیئر اب ایک نئے محاذ پر لڑنے کے لیے آفس کی طرف چل پڑا، اسے احساس ہوا کہ اصل امتحان تو اب شروع ہوئے ہیں؛ باپ کا امتحان الگ، تانیہ کا الگ اور ماما کی بیماری کا الگ۔
آفس میں جہانگیر صاحب عملے کی بے عزتی کر رہے تھے۔ المیئر کے داخل ہوتے ہی انہوں نے اسے دشمن کی نظر سے دیکھا۔ المیئر نے عملے کو نکالا اور مینیجر سے فائلیں لانے کو کہا۔ المیئر نے غصے پر قابو رکھتے ہوئے پوچھا: "باہا! آپ نے اپنی ضد پوری کر لی دوسری شادی کر کے؟ ٹھیک ہے، اب سے میرے اور ماما کے راستے آپ سے جدا ہیں۔" جہانگیر بولا: "میں خود تم لوگوں سے تعلق ختم کر رہا ہوں، مجھے ایسی اولاد اور بیوی نہیں چاہیے جو میرے دشمنوں سے ملی ہو۔ تم نے صوفیہ کی بیٹی سے خفیہ نکاح کیا، کیا لڑکیوں کی کمی تھی جو اسی صوفیہ کی بیٹی ملی جس نے ہماری عزت کا جنازہ نکالا تھا؟"
المیئر کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا۔ وہ بولا: "صوفیہ پھوپھو بھاگی نہیں تھیں! شہاب انکل کے والدین باقاعدہ رشتہ لائے تھے، نانا نے آپ کو جھوٹ بتایا۔ ماما خود عشق میں مبتلا تھیں اور نانا نے شرط رکھی تھی کہ اگر وہ صوفیہ کے خلاف جھوٹی گواہی دیں گی تو وہ ان کی شادی آپ سے کروائیں گے۔ صوفیہ پھوپھو کو خالی ہاتھ رخصت کر کے جائیداد سے بے دخل کر دیا گیا اور یہ سب جھوٹ آپ کو بتایا گیا۔ صوفیہ پھوپھو بے قصور تھیں اور قدرت کا انصاف دیکھیں کہ جائیداد وصیت کے مطابق تانیہ کے نام منتقل ہو چکی ہے۔ دادا ابو نے پہلے ہی وکیل کو وصیت دے دی تھی کہ آپ پھوپھو کے ساتھ کوئی زیادتی نہ کریں۔"
جہانگیر اپنی سیٹ پر بت بنا رہ گیا: "کیا یہ سب میری بیوی اور سسرال نے کیا؟ میں نے آخری بار اسے دیکھا تھا تو اس کی گود میں بچہ تھا، اس نے بہت کہا میری بات سن لیں لیکن میں نے اسے دھکے دے کر نکلوا دیا۔ میں آسیہ کو کبھی معاف نہیں کروں گا۔"
المیئر نے کہا: "باہا! کیا آپ خود کو معاف کر سکیں گے؟ آپ کی اور ماما کی نفرت کی سزا میں بھگت رہا ہوں، تانیہ مجھ سے خلع لے رہی ہے۔ کیا اب بھی آپ کا ضمیر سویا ہوا ہے؟ آپ نے بھی تو پسند کی شادی کی تھی، پھر پھوپھو کا کیا گناہ تھا؟ ماما بھی اب آپ سے علیحدگی چاہتی ہیں۔" جہانگیر کا دل بوجھل ہو گیا، اس نے المیئر سے کہا: "تمہیں صوفیہ کی قبر کا پتہ ہے؟ مجھے ابھی وہاں لے چلو۔ میں صوفیہ سے، تانیہ سے اور شہاب سے معافی مانگنا چاہتا ہوں۔ میں جس جوانی اور دولت کے نشے میں تھا، وہ اتر گیا ہے۔ دوسری شادی کرنے والی عورت بھی مجھے چھوڑ گئی کیونکہ اسے صرف میری دولت چاہیے تھی۔ میں اپنی بہن اور تانیہ سے معافی مانگ کر اپنی بہو کو واپس گھر لاؤں گا۔"
تانیہ لان میں واک کر رہی تھی جب شہاب صاحب دو مگ کافی کے لائے۔ تانیہ نے کہا: "باہا! آج دل بہت بے چین ہے، ماما بہت یاد آ رہی ہیں، کیا ہم ان کی قبر پر جا سکتے ہیں؟" شہاب صاحب مان گئے اور واپسی پر ریسٹورنٹ جانے کا پروگرام بنایا۔
تانیہ نے گاڑی پھول والے کے پاس رکوانے کا کہا: "میں ماما کے لیے پھول لینا چاہتی ہوں۔" اس نے پھول لیے اور دوبارہ گاڑی میں آ کر بیٹھ گئی۔ تانیہ کو ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے کوئی طاقت اسے ماما کی طرف کھینچ کر لے جا رہی ہو۔ اس نے کہا: "بابا! گاڑی سائیڈ پارکنگ میں ہی کھڑی کر دیتے ہیں۔" شہاب صاحب نے اس کی بات سے اتفاق کیا، پھول اٹھائے اور دونوں اندر آ گئے۔
جب وہ اپنی مطلوبہ قبر کے پاس پہنچے تو وہاں کا منظر ہی الگ تھا۔ انہیں صوفیہ کی قبر کے پاس کسی کے رونے کی ہچکیوں کی آواز صاف سنائی دے رہی تھی اور قبر پھولوں سے ڈھکی ہوئی تھی۔ کوئی صوفیہ کی قبر کے ساتھ لپٹا ہوا تھا۔ تانیہ یہ جاننے کے لیے آگے آئی اور پوچھا: "آپ کون ہیں؟ میری امام کی قبر کے پاس کیوں ہیں؟"
تانیہ کے پوچھنے پر المیئر اور جہانگیر مڑے تو المیئر کے منہ سے نکلا "تانیہ!" اور ساتھ ہی جہانگیر بھی کھڑے ہو گئے۔ انہوں نے کہا: "تم تانیہ ہو؟ میری صوفیہ کی نشانی! اور آپ شہاب ہیں، صوفیہ کے شوہر۔ میں صوفیہ سے معافی مانگنے آیا تھا۔ اپنے بھائی کو معاف کر دو، وہ بول نہیں رہی ہے، میں معافی لیے بغیر نہیں جاؤں گا۔"
تانیہ اور شہاب دونوں کی آنکھوں سے آنسو نکل رہے تھے۔ شہاب صاحب نے آگے بڑھ کر جہانگیر کے کندھے پر ہاتھ رکھا: "کاش یہ احساس آپ کو تب ہو جاتا جب وہ زندہ تھیں۔ آخری دنوں میں انہوں نے آپ کو بہت یاد کیا تھا، آپ تب بھی باہر تھے۔ میں نے ان کے مرنے کی اطلاع بھی دی تھی، آپ لوگوں نے بہت زیادتی کی۔"
جس پر جہانگیر نے کہا: "میں اب سامنے ہوں، مجھ سے حساب لو۔ میں بھی لاعلم رہا، آج المیئر نے سچائی بتائی ہے کہ شہاب کے ساتھ صوفیہ بھاگی نہیں تھی، نکاح ہوا تھا۔ میں آسیہ اور اپنے ساس سسر کی باتوں پر یقین کرتا رہا اور صوفیہ کو بدکردار سمجھتا رہا۔ میں آج جان پایا ہوں کہ وہ پاکیزہ تھی۔"
یہ سن کر شہاب اور تانیہ نے سکون کا سانس لیا کہ آج ماما کی روح کو سکون مل گیا ہوگا، آج ہر منظر صاف دکھائی دے رہا تھا۔ تانیہ نے ماما کی قبر پر پھول ڈالتے ہوئے کہا: "ماما! آپ کے دامن پر لگا داغ اب صاف ہو چکا ہے، قدرت نے آپ کو باعزت بری کر دیا ہے۔ اب تو آپ پرسکون ہیں ماما، آج میں بھی پرسکون ہوں۔"
تانیہ پھول ڈال کر جانے لگی تو جہانگیر نے آواز دی: "تانیہ بیٹا! اپنے ماموں سے نہیں ملو گی؟ کہتی ہو تو ہاتھ جوڑ کر معافی مانگتا ہوں۔ المیئر بھی میری طرح انجان تھا، میں تو ساری زندگی نفرت اور جوانی کے زعم میں رہا۔ میرے حصے کی سزا مجھے دو، میرے بیٹے کو نہیں، وہ تم سے بہت محبت کرتا ہے۔ بیٹا! میری آخری ریکوسٹ ہے۔" وہ ہاتھ جوڑتے ہوئے تانیہ کے قریب آیا۔
تانیہ بوکھلا گئی تو شہاب صاحب نے آگے بڑھ کر کہا: "بڑے ہاتھ نہیں جوڑتے، میں نے، صوفیہ نے اور تانیہ نے آپ کو معاف کیا۔" یہ کہہ کر وہ تانیہ کا ہاتھ پکڑ کر آگے بڑھنے لگے تو جہانگیر نے پکارا: "تانیہ میرے گھر کی بیٹی ہے، اسے میرے ساتھ جانا چاہیے۔" وہ روئے اور المیئر کا ہاتھ پکڑ کر تانیہ کے پاس لائے اور بولے: "معافی مانگو ابھی تانیہ سے، جس بھی بات کے لیے تم نے اس کا دل دکھایا ہے۔ شہاب! اب میں پورے خاندان کے ساتھ تانیہ کی رخصتی کے لیے آپ کے گھر آنا چاہتا ہوں، آپ بس ہاں کر دیں۔"
شہاب صاحب نے اپنی بیٹی کی طرف دیکھا تو وہ خاموش تھی۔ المیئر نے کہا: "تانیہ! اب تو سب صاف ہو گیا، میں نہیں جانتا تھا، نہ میں تمہاری پراپرٹی میں انٹرسٹڈ ہوں۔ تم اپنا فیصلہ سوچ کر کرنا، میں کوئی زبردستی نہیں چاہتا، میں تمہارے فون کا انتظار کروں گا۔" تانیہ نے المیئر کی آنکھوں میں وہ سب دیکھا جو سچ تھا، جذبوں کی سچائی آنکھوں سے نظر آ رہی تھی۔ تانیہ نے اپنے بابا کا ہاتھ پکڑا اور کہا: "مجھے ٹائم چاہیے سوچنے کے لیے۔" جس پر المیئر نے کہا: "میں ساری زندگی تمہارا انتظار کر سکتا ہوں، بس 'ہاں' میں جواب دینا۔"
تانیہ نے آگے کی طرف قدم بڑھائے۔ شہاب صاحب نے گاڑی ریسٹورنٹ کی طرف موڑنی چاہی تو تانیہ نے کہا: "بابا! کیا میں خلع کا کیس واپس لے سکتی ہوں؟" جس پر شہاب صاحب مسکرائے: "جی بیٹا جی! آپ کو پورا حق ہے اپنی لائف کے فیصلے لینے کا۔ اب جب کہ میرا دل بھی مطمئن ہے اور جہانگیر نے معافی بھی مانگ لی ہے تو میں پرسکون ہوں۔ میں جانتا ہوں میری بیٹی المیئر کو بہت چاہتی ہے، میں ولن کیوں بنوں؟"
تانیہ نے پوچھا: "پر بابا شہروز کا کیا ہوگا؟ وہ دکھی ہوگا۔" شہاب صاحب بولے: "میں سمجھا دوں گا بیٹا، آپ اپنی لائف کو آگے کیسے لے کر جانا ہے یہ سوچو، پھر کبھی ڈیٹ فکس کرو رخصتی کی۔" تانیہ جب وہاں سے گئی اس کی آنکھوں میں چمکتے جگنو واضح نظر آ رہے تھے۔ شہاب صاحب نے دل میں کہا: "کاش صوفیہ تم بھی ہوتیں تو کتنا خوش ہوتیں اس ملن پر۔ آج ہر دل صاف ہے۔ صوفیہ! آج میں نے اپنی تانیہ کو اس کی خوشی لوٹا دی جو جانے انجانے میں اس سے چھیننے لگا تھا۔"
" شہاب صاحب کو شہروز کی بات یاد آئی جس نے انہیں سمجھایا تھا کہ تانیہ کی خوشی صرف المیئر کے ساتھ ہے اور وہ خود تانیہ کے لیے صرف ایک اچھا دوست بن سکتا ہے۔
جہانگیر اور المیئر فارم ہاؤس پہنچے توآسیہ انہیں دیکھ کر حیران رہ گئی۔ جہانگیر نے اسے گلے لگا کر معافی مانگی اور سب رو پڑے۔ المیئر نے کہا: "ماما! بہت بھوک لگی ہے، کھانا کہاں ہے؟" آسیہ نے مسکرا کر کہا: "سب تیار ہے، بس اب تانیہ کی کمی ہے۔"
شہروز واپس اکیلا جا رہا تھا کہ رومیصہ نے پوچھا: "بھائی! تانیہ تو آپ کی محبت تھی، آپ کیوں جا رہے؟"
شہروز نے جواب دیا: "میں تانیہ سے محبت کرتا تھا اور تانیہ المیئر سے۔ میں تانیہ کی خوشی چاہتا تھا۔ میں تانیہ کو پا بھی لیتا تب بھی اس کے دل تک رسائی ممکن نہیں تھی، المیئر کے ساتھ ہی اس کی خوشیاں ہیں، سمجھو اس بات کو۔"
رومیصہ نے اداسی سے پوچھا: "بھائی! آپ واپس کب آئیں گے؟"
جس پر شہروز نے کہا: "جب دل سنبھل جائے گا تب واپس آ جاؤں گا۔ تم کیوں نہیں گئیں تانیہ کی شادی پہ؟ تمہاری تو دوستی تھی۔"
تانیہ اور المیئر اسٹیج پر اتنے پیارے لگ رہے تھے، جیسے ان کے دلوں اور زندگیوں میں حقیقی بہار آ گئی ہو، کیونکہ جینا ہی "بہار کے سنگ" ہے۔ اصل زندگی کی خوبصورتی تو اپنوں کے ساتھ جینے میں ہے۔ المیئر نے تانیہ کو یقین دلایا کہ وہ ساری زندگی اس کے ساتھ عزت اور یقین کا رشتہ پورے خلوص کے ساتھ نبھائے گا۔ تانیہ نے بھی یقین دلایا کہ کیسے بھی موڑ آئیں وہ ساتھ رہیں گے، یہی اصل خوبصورتی ہے رشتے کی۔ اسی کے ساتھ ہی کیمرہ مین کی آواز آئی اور "فیملی فوٹو" کا لمحہ آیا، وہ منظر کیمرے میں قید ہو گیا جو سب کی زندگیوں میں بہار لے کر آیا تھا۔
جملہ حقوق محفوظ ہیں (Copyright Notice)
جملہ حقوق بحقِ مصنفہ محفوظ ہیں۔ اس ناول "بہار کے سنگ" کی تمام تحریر، کردار اور پلاٹ
مصنفہ عشرت خانم قلمی نام: ذوقِ عشاء
کی تخلیقی ملکیت ہیں۔ مصنفہ کی پیشگی اجازت کے بغیر اس تحریر کے کسی بھی حصے کو کسی بھی شکل میں (ڈیجیٹل، پرنٹ، یا آڈیو وائس اوور) کاپی کرنا، چوری کرنا یا کسی دوسرے پلیٹ فارم پر شائع کرنا قانونی اور اخلاقی جرم ہے۔ خلاف ورزی کی صورت میں قانونی کارروائی کا حق محفوظ رکھا جاتا ہے۔
اعلامیہ
یہ ایک افسانوی تحریر ہے۔ اس ناول کے تمام کردار، واقعات اور مقامات مصنفہ کے تخیل کی پیداوار ہیں۔ اس کا مقصد کسی بھی فرد (زندہ یا مردہ)، خاندان، ادارے، یا مذہب کی دل آزاری کرنا ہرگز نہیں ہے۔ کہانی میں موجود تمام سماجی اور جذباتی پہلوؤں کو صرف افسانوی پس منظر میں پیش کیا گیا ہے۔ کسی بھی قسم کی مماثلت محض اتفاقیہ سمجھی جائے گی۔
Comments
Post a Comment