سجیلا (Sajeela) — قسط نمبر 1
سجیلا (Sajeela) —
قسط نمبر 1
ذوقِ عشاء کے قلم سے
(Zoaq Digital Novels)
رات کا آخری پہر تھا۔ اسٹریٹ لائٹس کی مدہم روشنی میں بارش کا پانی چمک رہا تھا۔ دایہ (مائی بختو) نے جیسے ہی نوزائیدہ بچے کو کپڑے میں لپیٹا، اس کے چہرے پر خوشی کی جگہ ایک گہرا سناٹا چھا گیا۔
باہر بیٹھے باپ (رحمت خان) نے جیسے ہی دروازے کے کھلنے کی آواز سنی، وہ تیزی سے آگے بڑھا۔ "مائی! بیٹا ہوا ہے یا بیٹی؟"
مائی بختو نے نظریں جھکا لیں، اس کی زبان جیسے گنگ ہو چکی تھی۔ "رحمت خان۔۔۔ اللہ نے تمہیں بچہ تو دیا ہے، پر۔۔۔ پر یہ نہ پورا بیٹا ہے نہ بیٹی۔۔۔ یہ تو خواجہ سرا ہے۔"
رحمت خان کے پیروں تلے سے جیسے زمین نکل گئی۔ اس نے بچے کی طرف دیکھا، جس کی معصوم آنکھیں بند تھیں اور وہ ہلکی سی سسکیاں لے رہا تھا۔ باپ کے دل میں ممتا اور ہمدردی کی جگہ معاشرے کے طعنوں، ہنستی ہوئی گندی نظروں اور بدنامی کے خوف نے لے لی۔
"نہیں! یہ میرا بچہ نہیں ہو سکتا۔ میں سوسائٹی کو کیا منہ دکھاؤں گا؟ لوگ میرا تماشہ بنا دیں گے!" رحمت خان چلایا۔
بسترے پر لیٹی ماں (صفیہ) نے روتے ہوئے اپنے لختِ جگر کو سینے سے لگانے کے لیے ہاتھ بڑھایا، لیکن رحمت خان نے اسے جھڑک دیا۔ اسی رات، اس معصوم روح کا نام رکھ دیا گیا۔۔۔ "سجیلا"۔ ایک ایسا نام جس کے پیچھے چھپی داستان میں نہ کوئی سجاوت تھی، اور نہ کوئی رنگ۔ صرف اندھیرا تھا اور ایک معصوم کا یہ سوال کہ: "میرا قصور کیا تھا؟"
صفیہ تڑپ کر بولی، "رحمت خان! تجھے اللہ کا واسطہ ہے، میرا بچہ مجھے دے دے۔ میں کسی کو کچھ نہیں بتاؤں گی، میں اسے لے کر کہیں دور چلی جاؤں گی۔۔۔"
رحمت خان نے قریب آ کر صفیہ کا ہاتھ تھاما اور دھیمے لہجے میں کہا، "صفیہ! میں تمہیں کہیں جانے نہیں دوں گا، میں تم سے محبت کرتا ہوں۔ دیکھو، ہم اسے اس دایہ کو دے دیتے ہیں، وہ اسے کہیں چھوڑ آئے گی، یہ وہیں پل جائے گا۔ اللہ ہمیں اور بیٹا دے دے گا۔۔۔ تم سمجھتی کیوں نہیں ہو؟"
"رحمت! میں اسے خود پال لوں گی، میں تجھ سے کبھی کچھ نہیں مانگوں گی، ساری زندگی تیری غلامی کروں گی۔۔۔ تو مجھ سے میری یہ پہلی اولاد مت چھین۔" صفیہ زار و قطار رونے لگی۔
صفیہ کو اس طرح تڑپتا دیکھ کر رحمت خان خاموش ہو گیا اور کمرے سے باہر نکل آیا۔ اس نے باہر کھڑی دایہ سے رخ بدل کر کہا، "لے جاؤ اسے اندر۔۔۔ دے دو اسے۔ ابھی اس کے اندر چند دن کا بھوت ہے، اتر جائے گا۔ میں ابھی اس کی حالت کا خیال کر رہا ہوں، طبیعت سنبھل جائے گی تو 40 دن بعد آ کر اسے لے جانا۔"
رحمت خان کا حکم سن کر دایہ بختو اندر آئی اور بچے کو صفیہ کی گود میں دیتے ہوئے بوجھل لہجے میں بولی، "میں تجھے مبارکباد نہیں دے سکتی صفیہ۔۔۔ یہ بچہ تیرے کسی کام کا نہیں، یہ تیری آزمائش ہے۔"
صفیہ نے دکھی دل سے دایہ کی طرف دیکھا، "دایہ بختو! کیا میں اسے اکیلی لائی ہوں؟ رحمت خان بھی تو اس کو دنیا میں لانے میں برابر کا شریک ہے۔ پھر کیوں وہ ایسا پتھر دل ہو گیا ہے؟"
دایہ بختو نے اسے حقیقت سمجھانے کی کوشش کی، "سن میری بات! نہ یہ بیٹا ہے تیرا اور نہ بیٹی۔ اب تو خود سوچ، کس نام سے اسے بلائے گی؟"
صفیہ نے اپنے بچے کے معصوم چہرے کو دیکھا اور پُرعزم لہجے میں کہا، "میری خواہش تھی کہ میرے ہاں پہلی بیٹی ہو، اور رحمت خان کو بھی بیٹی ہی چاہیے تھی۔ میں اس کا نام رکھوں گی 'سجیلا'۔ اس کی اتنی اچھی پرورش کروں گی کہ سب دیکھتے رہ جائیں گے۔ میں دور پہاڑوں میں چلی جاؤں گی، جہاں یہ شہری لوگ نہ ہوں۔ میں اسے پڑھاؤں گی، اسے ہنر سکھاؤں گی، میں نے اس کے لیے ایک اچھی زندگی سوچ لی ہے۔ کیا ہوا جو یہ میری بیٹی نہیں ہے؟ اللہ کی مرضی ہے، میں اسے پیار کرنا نہیں چھوڑ سکتی کیونکہ میں ماں ہوں! رب نے اس کی وجہ سے میرے پاؤں کے نیچے جنت رکھ دی ہے۔ یہ میری سجیلا ہے اور میں اسے سجیلا ہی پکاروں گی۔"
صفیہ کی بات سن کر دایہ نے آہ بھری، "لیکن رحمت بھائی نے مجھے کہا ہے کہ میں 40 دن بعد آؤں اور اسے لے جا کر اس جیسے لوگوں میں چھوڑ آؤں۔"
صفیہ نے معصوم بچے کو کسی قیمتی متاع کی طرح اپنے سینے سے لگا لیا۔ دایہ بختو نے اس کی ممتا دیکھ کر کہا، "صفیہ! میں تیرا دکھ سمجھ سکتی ہوں۔ میں جانتی ہوں کوئی ایسی اولاد نہیں پالنا چاہتا، اسے پالنا بہت مشکل ہے اور تو اکیلی اس معاشرے سے نہیں لڑ سکتی۔ رحمت بھائی اپنی بات کا پکا ہے۔"
دایہ بختو کی بات پر صفیہ نے کچھ سوچتے ہوئے کہا، "تو بس میرا ایک کام کر دے۔ میں تجھے یہ ایک نمبر دے رہی ہوں، اس نمبر پر فون کر کے کہہ دینا کہ دو دن بعد صفیہ آ رہی ہے۔ لیکن رحمت خان کو پتہ نہیں لگنا چاہیے، یہ ضرور کہنا۔ اور دایہ بختو! مجھ سے وعدہ کرو کہ تم کبھی میرا یہ راز نہیں کھولو گی۔"
دایہ نے سر ہلایا، "ہاں، میں وعدہ کرتی ہوں۔ پر یہ نمبر ہے کس کا؟"
"یہ میری بچپن کی سہیلی کے گھر کا نمبر ہے۔ جہاں ہم دونوں نے ساتھ سپارہ پڑھا اور تعلیم حاصل کی۔ میں نے آٹھ جماعتیں پڑھی ہیں، میں جانتی ہوں کہ تعلیم بہت ضروری ہے۔ میں وہاں محفوظ رہوں گی، رحمت خان کو پتہ نہیں چلے گا۔ وہ مجھے ڈھونڈے گا، لیکن تم کبھی میرا مت بتانا، مجھ سے وعدہ کرو۔ اور یہ پیسے لو۔۔۔" صفیہ نے رقم آگے بڑھائی۔
دایہ بختو کی آنکھوں میں آنسو آ گئے، اس نے صفیہ کا ہاتھ پیچھے دھکیل دیا، "میں یہ پیسے نہیں لے سکتی، تو انہیں اپنے پاس رکھ، تیرے کام آئیں گے۔ ہاں، میں تجھے ایک چیز دیتی ہوں، مجھے اپنی بڑی بہن سمجھ کر رکھ لے۔" دایہ نے اپنے ہاتھ میں پہنی ہوئی ایک چڑی اتاری اور صفیہ کے ہاتھ میں پہنا دی، "اسے سنبھال کر رکھنا، تیرے کام آئے گی۔ میں چلتی ہوں، میں بھی یہ شہر چھوڑ کر جا رہی ہوں۔ قسمت میں ملنا لکھا ہوا تو پھر ملیں گے۔ میں نمبر پر تیرا کام کر دوں گی، اور اگر کبھی تجھ سے ملنے کا دل کیا تو اسی نمبر پر فون کر کے تیری خیریت پوچھ لیا کروں گی۔"
صفیہ نے اطمینان دلایا، "ہاں، بالکل پوچھ سکو گی۔"
دونوں نے ایک دوسرے کو آخری بار دیکھا۔ پل بھر میں دایہ بختو کے دل میں صفیہ کے لیے اتنی اپنائیت جاگ اٹھی تھی کہ وہ دل ہی دل میں دعائیں دیتی ہوئی باہر نکل گئی۔ رحمت خان اندر نہیں آیا تھا، وہ وہیں سے اپنے ڈیرے پر چلا گیا تھا۔
کمرے میں تنہا رہ جانے کے بعد صفیہ ماضی کے جھروکوں میں کھو گئی۔ اسے یاد آیا کہ کیسے اس کی ملاقات رحمت خان سے ہوئی تھی اور وہ اس کے عشق میں دیوانہ ہو گیا تھا۔ یہ شادی برادری سے باہر ہوئی تھی، جس کی وجہ سے دونوں کو اپنے اپنے گھر چھوڑنے پڑے تھے اور برادری نے انہیں باہر نکال دیا تھا۔ آج قسمت نے صفیہ کو کس دو راہے پر لا کھڑا کیا تھا! اسے اب کسی ایک کا انتخاب کرنا تھا؛ یا تو رحمت خان کا، یا پھر سجیلا کا۔
اس نے اپنا فیصلہ کر لیا۔ سجیلا اس کے وجود کا حصہ تھی۔ وہ رحمت خان سے دور چلی جائے گی۔ وہ جانتی تھی کہ رحمت خان کچھ دن اسے ڈھونڈے گا اور پھر تھک ہار کر دوسری شادی کر لے گا۔ صفیہ نے سوچا، "میں اسے پالوں گی اور اسکول میں بھی پڑھاؤں گی۔ جو خواب میں نے اپنی بیٹی کے لیے دیکھے تھے، وہ میں سجیلا پر پورے کروں گی۔"
اچانک بچے کے رونے کی آواز سے صفیہ سوچوں سے باہر آئی۔ اس نے نوزائیدہ کو اپنے قریب کیا اور اسے چپ کرانے لگی۔ اس کی ممتا نے یہ گوارا نہیں کیا کہ وہ اس ننھے سے وجود کو خود سے الگ کرے۔ اس نے سجیلا کو ساتھ پلنگ پر لٹایا اور خود اٹھنے کی کوشش کی۔ لیکن زچگی کی نقاہت اور کمزوری کی وجہ سے اس سے اٹھا نہیں جا رہا تھا، اس کی ٹانگیں لرز رہی تھیں۔
اس نے ہمت کر کے الماری کھولی، اس میں رکھا اپنا زیور اور کچھ پیسے جو اس نے چھپا کر رکھے تھے، نکالے۔ ان سب کو ایک پوٹلی میں باندھا اور پھر ایک چھوٹے سے بیگ میں بچے کے کچھ کپڑے، اپنے دو سوٹ اور وہ پوٹلی ڈال دی۔ اس نے وہ بیگ پلنگ کے نیچے کونے میں چھپا کر رکھ دیا تاکہ کسی کی نظر نہ پڑے۔
کام ختم کر کے صفیہ دوبارہ پلنگ پر آ کر لیٹ گئی۔ اتنے میں دروازہ کھلنے کی آواز آئی۔ رحمت خان اندر داخل ہوا، اس کے ہاتھ میں ایک پیالہ تھا، "یہ یخنی لایا ہوں، پی لو۔ طبیعت بہتر ہو جائے گی۔ بھوک لگی ہو گی، اور یہ دوائی دایہ نے بتائی تھی، یہ بھی کھا لینا"۔ یہ کہہ کر وہ دوبارہ چپ چاپ باہر نکل گیا۔
صفیہ پیالے کو دیکھتے ہوئے سوچنے لگی کہ رحمت خان کو اس کا کتنا خیال ہے! کیا وہ اسے چھوڑ کر جا رہی ہے، تو صحیح کر رہی ہے؟ لیکن وہ اس معصوم کو بھی تو خود سے دور نہیں کر سکتی تھی۔۔۔ "کیا کروں میں؟"
اسی کشمکش میں اس نے یخنی پی، دوائی کھائی اور پھر سجیلا کو اپنی باہوں میں مضبوطی سے بھر لیا۔ اس نے آنکھیں بند کیں اور نیند کی وادی میں اتر گئی۔۔۔۔۔
(جاری ہے) کوئی بھی ڈائیلاگ یا سین مس مت کیجیے گا، کہانی کے اگلے موڑ کے لیےاگلی قسط کا انتظار کریں۔
کاپی رائٹ اور ڈسکلیمر
جملہ حقوق بحقِ مصنفہ محفوظ ہیں © 2026 ناول:
سجیلا (قسط نمبر 1) تحریر: ذوقِ عشاء (عشرت خانم) پلیٹ فارم: ذوق ڈیجیٹل ناولز
ضروری نوٹ : اس ناول کے تمام حقوق، بشمول کہانی، کردار، ڈائیلاگز اور اسکرپٹ، مکمل طور پر مصنفہ "ذوقِ عشاء" (عشرت خانم) کے نام محفوظ ہیں۔ مصنفہ کی پیشگی اجازت کے بغیر اس کہانی کے کسی بھی حصے کو کاپی کرنا، کسی دوسرے پیج یا ویب سائٹ پر پبلش کرنا، یا اس کی آڈیو/ویڈیو بنا کر شیئر کرنا قانونی اور اخلاقی طور پر ممنوع ہے۔ ادبی چوری کی صورت میں قانونی کارروائی کا حق محفوظ ہے۔
ڈسکلیمر : یہ ناول معاشرے کے حساس موضوعات اور اصلاحی پہلوؤں کو سامنے لانے کے لیے لکھا گیا ہے۔ کہانی کے تمام کردار اور واقعات افسانوی ہیں جن کا مقصد کسی فردِ واحد، برادری یا ادارے کی دل آزاری کرنا ہرگز نہیں ہے، بلکہ اس کا مقصد معاشرتی شعور بیدار کرنا اور انسانی حقوق کو اجاگر کرنا ہے۔
Comments
Post a Comment