ناول: سجیلا (قسط نمبر 4)
ناول: سجیلا (قسط نمبر 4)
(عشرت خانم) |تحریر: ذوقِ عشاء
پلیٹ فارم: ذوق ڈیجیٹل ناولز
"امید کی پہلی کرن، آزمائش کا نیا افق"
پہاڑی گاؤں کی صبح شہر کی صبح جیسی نہیں ہوتی تھی۔ یہاں پرندوں کی چہچہاہٹ اور درختوں سے چھنتی ہوئی دھوپ کی پہلی کرن بستر پر لیٹے انسان کو جگا دیتی تھی۔ ٹھنڈی ہوا کے جھونکے جب مٹی کے کچے مکانوں کے روزنوں سے گزرتے، تو یوں لگتا جیسے کائنات کوئی لوری سنا رہی ہو۔ صفیہ کی آنکھ کھلی تو اس کے دل میں برسوں بعد وہ خوف نہیں تھا جو رحمت خان کے گھر میں ہر صبح اس کا گھیرائو کرتا تھا۔ شہر کی اس اونچی کالی عمارت میں ہر صبح ایک نئی قیامت لے کر آتی تھی، جہاں قدم قدم پر طعنے اور نفرت کی دیواریں کھڑی تھیں۔ لیکن یہاں، اس کچے کمرے میں، فضا بالکل مختلف تھی۔
اس نے کروٹ بدل کر اپنے ساتھ سوئی ہوئی سجیلا کو دیکھا۔ سجیلا کے معصوم چہرے پر دھوپ کی ایک سنہری لکیر تیر رہی تھی، جس سے اس کی رنگت اور بھی نکھر آئی تھی۔ وہ کتنی معصوم تھی، دنیا کے رنگوں اور انسانوں کے زہریلے ارادوں سے بالکل بے نیاز۔ صفیہ نے جھک کر سجیلا کے نرم ماتھے پر پیار کیا اور اس کے چھوٹے سے ہاتھ کو اپنی انگلیوں میں تھام لیا۔ اس ادھورے وجود کے پیچھے صفیہ کی پوری کائنات چھپی تھی۔
صفیہ نے چادر اوڑھی اور دھیمے قدموں سے صحن میں آئی۔ خالہ کوثر چولہے پر لکڑیاں سلگا رہی تھیں، جس سے نکلتا ہوا ہلکا دھواں فضا میں ایک مانوس سی خوشبو گھول رہا تھا۔ چائے کی کیتلی چولہے پر چڑھ چکی تھی۔ دوسری طرف، خدیجہ (صفیہ کی بچپن کی سہیلی) صحن میں جھاڑو دے رہی تھی۔ صفیہ کو دیکھتے ہی خدیجہ کے چہرے پر ایک بڑی سی مسکراہٹ ابھری۔ اس نے جھاڑو ایک طرف رکھا اور دوڑ کر صفیہ کے گلے لگ گئی۔
"صفیہ! سچی بتاؤں تو مجھے رات تک یقین نہیں آ رہا تھا کہ تم واقعی یہاں ہو۔" خدیجہ نے صفیہ کے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیتے ہوئے کہا، اس کی آنکھوں میں بچپن کی شرارت اور سچی ہمدردی صاف نظر آ رہی تھی۔ "کتنے برس بیت گئے ناں؟ جب تم شہر گئیں، تو یوں لگا جیسے اس گاؤں کی رونق ہی چلی گئی۔ میں اکثر اس بیری کے درخت کے پاس بیٹھ کر تمہاری باتیں یاد کرتی تھی۔"
خالا کوثر نے چولہے کی آگ کو پھونک مار کر تیز کیا اور ایک گرم کپ چائے کا صفیہ کی طرف بڑھاتے ہوئے شفقت سے بولیں، "برسوں تو بیت گئے خدیجہ، لیکن صفیہ یہاں مہمان بن کر نہیں آئی، یہ اب اس کا اپنا گھر ہے۔ صفیہ بیٹی، اب پچھلی باتیں، وہ سارے دکھ اور وہ رات کا اندھیرا یہیں دفن کر دو۔ یہاں پہاڑوں کی اوٹ میں ہماری سجیلا بالکل محفوظ رہے گی اور تم بھی۔"
صفیہ نے گرم چائے کا گھونٹ لیا، تپش اس کے حلق سے اتری تو دل کو ایک عجیب سا سکون ملا۔ اس کی آنکھوں میں شکر گزاری کے آنسو تھے لیکن لہجے میں اب ایک نیا اور مضبوط عزم جھلک رہا تھا۔ "خالہ! میں آپ کی اور خدیجہ کی بہت شکر گزار ہوں کہ آپ نے مجھے اس حال میں پناہ دی۔ لیکن میں یہاں ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھ کر آپ لوگوں پر بوجھ نہیں بنوں گی۔ میں ایک ماں ہوں، اور اب مجھے اپنی بیٹی کی پرورش کے لیے خود کو مضبوط کرنا ہوگا۔ مجھے یہاں کوئی نہ کوئی کام کرنا ہوگا تاکہ میں اپنے پیروں پر کھڑی ہو سکوں۔ میں چاہتی ہوں کہ سجیلا کو وہ کچھ ملے، وہ تعلیم اور عزت ملے، جس سے اس کا سگا باپ اسے محروم کرنا چاہتا تھا۔"
خالہ کوثر نے صفیہ کے چہرے پر لکھی ممتا کی یہ داستان دیکھی تو ان کا دل بھر آیا۔ انہوں نے آگے بڑھ کر اس کے سر پر ہاتھ رکھا، "کام کی فکر کیوں کرتی ہو بیٹی؟ خدا نے تمہیں تعلیم دی ہے، تم پڑھی لکھی ہو۔ ہمارے اس پسماندہ گاؤں میں لڑکیوں کو پڑھانے والا کوئی نہیں ہے۔ اگر تم چاہو تو یہیں صحن میں بچوں کو قرآن پاک اور بنیادی لکھائی پڑھائی سکھا سکتی ہو، اور ساتھ میں سلائی کڑھائی کا کام بھی شروع کر سکتی ہو۔ کچھ ہی دنوں میں سب بندوبست ہو جائے گا۔"
بظاہر سب کچھ پرسکون لگ رہا تھا، لیکن صفیہ کا اندرونی سچ جانتا تھا کہ اصل امتحان اب شروع ہوا تھا۔ اسے ایک ایسی بچی کو اس روایتی معاشرے کے سامنے لانا تھا، جو خواجہ سراؤں کو انسان سمجھنے سے بھی کتراتا ہے۔ لیکن صفیہ نے دل میں عہد کر لیا تھا کہ وہ سجیلا کو زمانے کی ٹھوکروں کا نشانہ نہیں بننے دے گی، بلکہ اسے ایک ایسی طاقت بنائے گی کہ دنیا اس کی عزت کرنے پر مجبور ہو جائے۔
دوسری طرف، بسوں اور ٹرینوں کا ایک لمبا، تھکا دینے والا سفر ختم ہو چکا تھا۔ رحمت خان ان بزرگ، جن کا نام "حاجی سلیمان" تھا، کے ساتھ ایک نئے شہر کے مضافات میں کھڑا تھا جہاں زندگی کی گہما گہمی عروج پر تھی۔ سامنے ایک بہت بڑی اناج کی منڈی تھی، جہاں مزدور بوریوں کے گٹھے اٹھائے یہاں سے وہاں بھاگ رہے تھے، اور ہر طرف بیل گاڑیوں اور ٹرکوں کا شور تھا۔ حاجی سلیمان اس علاقے کے ایک انتہائی معزز، متمول اور رحم دل تاجر مانے جاتے تھے۔ ان کا سفید لباس، لمبی داڑھی اور چہرے کا رعب بتاتا تھا کہ وہ سچے اور کھرے انسان ہیں۔
"آؤ رحمت خان، یہ میرا گودام ہے اور سامنے وہ جو چھوٹی سی عمارت دیکھ رہے ہو، وہ میرا منشی خانہ ہے۔" حاجی سلیمان نے انگلی سے اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ "تمہارا کام یہاں آنے والے مال کی گنتی کرنا، حساب کتاب کا رجسٹر سنبھالنا اور رات کو گودام کی نگرانی کرنا ہوگا۔ میں نے تمہارا چہرے پر چھپی ایمانداری دیکھ کر تمہیں یہ کام دیا ہے۔ منشی خانے کے پیچھے ایک چھوٹا سا پکا کوارٹر ہے، وہاں تمہاری رہائش کا بندوبست کر دیا ہے۔"
رحمت خان نے جب گودام کی چابیاں اپنے ہاتھ میں لیں، تو لوہے کی اس ٹھنڈک نے اسے احساس دلایا کہ اس کی زندگی کا ایک بالکل نیا اور اجنبی باب شروع ہو رہا ہے۔ یہاں اسے کوئی نہیں جانتا تھا، کوئی اس کے ماضی سے واقف نہیں تھا، اور نہ ہی کوئی اس سے اس کی بیوی اور بیٹی کے بارے میں سوال کر کے اس کی مردانہ انا کو ٹھیس پہنچانے والا تھا۔
لیکن رات کے پچھلے پہر، جب منڈی کا شور تھم جاتا، تو رحمت خان منشی خانے کے پیچھے بنے کوارٹر میں چارپائی پر لیٹا بس سوچے ہی جا رہا تھا۔ نیند اس کی آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔ اس کے دماغ میں خیالات کا ایک طوفان برپا تھا۔
"بس ایک بار میرے ہاتھ میں کچھ پیسے آ جائیں۔۔۔ تھوڑا سرمایہ جمع ہو جائے، تو میں سب سے پہلے صفیہ کی تلاش شروع کروں گا۔" اس نے کروٹ بدلتے ہوئے سوچا۔ وہ صفیہ کے اپنے گھر (میکے) تو نہیں گئی تھی، کیونکہ رحمت خان نے اپنے بہن بھائیوں کے ذریعے وہاں پتا کروا لیا تھا کہ وہ وہاں نہیں پہنچی۔ "اگر وہ وہاں بھی نہیں گئی، تو آخر کہاں گئی؟ ایسی کون سی جگہ ہے جو مجھے معلوم نہیں؟ اس نے تو کبھی کسی سہیلی کا بھی ذکر نہیں کیا تھا، اور نہ ہی مجھے اس کے کسی گاؤں کا پتا ہے۔ پتا نہیں کہاں چلی گئی۔۔۔"
ایک گہری ہائے اس کے حلق سے نکلی۔ پچھتاوے کی ایک لہر نے اس کے وجود کو چھوا۔ "کاش! کاش میں اس رات اس پر اتنا دباؤ نہ ڈالتا، تو وہ آج میرے ساتھ ہوتی۔ کتنا اچھا وقت گزر رہا تھا ہمارا۔ اب پھر سے باہر کا گندا کھانا کھانا پڑتا ہے ہٹلوں کا۔ صفیہ کتنے پیار سے میرے لیے کھانا بناتی تھی، میری ہر ضرورت کا خیال رکھتی تھی۔ میں اس رات کچھ زیادہ ہی غصہ کر گیا۔۔۔"
رحمت خان نے اپنی پیشانی پر ہاتھ رکھا۔ اس کی روایتی سوچ نے ایک بار پھر سر اٹھایا، "اگر میں صفیہ کو بتائے بغیر ہی اس منحوس بچے کو کہیں دور چھوڑ آتا، تو کیا ہوتا؟ صفیہ کچھ دن روتی، تڑپتی، پھر آخر کار ممتا کا درد بھول کر چپ ہی ہو جاتی ناں! بعد میں اللہ ہمیں اور اولاد دے دیتا۔ لیکن اب وہ چلی گئی ہے۔۔۔" اس نے اپنے دانت بھیچے۔ "کچھ بھی ہو جائے، میں کسی اور عورت سے شادی نہیں کروں گا۔ میں صرف صفیہ کو ہی تلاش کروں گا، چاہے اس کے لیے مجھے یہ سارا جہان ہی کیوں نہ چھاننا پڑ جائے!"
وہ غصے اور بے چینی کے عالم میں جھٹکے سے اٹھ کر چارپائی پر بیٹھ گیا۔ نیند اب اس کے بس میں نہیں رہی تھی۔ گلا خشک ہو رہا تھا، وہ پانی پینے کے لیے کوارٹر سے باہر آیا۔ ٹھنڈا پانی پینے کے بعد وہ کھلے آسمان تلے کھڑا دوبارہ اسی سوچ کے دلدل میں اترنے لگا۔ "پر میں اسے ڈھونڈوں گا کیسے؟ میرے پاس تو صفیہ کی کوئی تصویر بھی نہیں ہے۔ اگر میں کسی کو بتاؤں بھی کہ کیا تم نے اسے کہیں دیکھا ہے، تو تصویر کے بغیر کس کو کیسے پتا چلے گا؟"
اس بے بسی اور لاچاری کی سوچ نے اسے دوبارہ بستر پر لوٹنے پر مجبور کر دیا۔ چارپائی پر لیٹتے ہی سارے دن کی منڈی کی تھکن اب اس کے وجود میں اتر آئی تھی۔ وہ بستر پر پڑا "صفیہ۔۔۔ صفیہ کہاں گئی تم؟" بڑبڑاتا ہوا، آہستہ آہستہ نیند کی وادیوں میں اتر گیا۔
پہاڑی گاؤں میں چند ہفتے پر لگا کر گزر گئے۔ صفیہ نے خالہ کوثر اور خدیجہ کی مدد سے گاؤں کی چھوٹی بچیوں کو اپنے گھر کے صحن میں صبح اور شام کے وقت پڑھانا شروع کر دیا تھا۔ وہ بچوں کو بہت پیار اور شفقت سے پڑھاتی تھی، جس کی وجہ سے بہت جلد پورے گاؤں میں اس کے اخلاق اور علم کے چرچے ہونے لگے۔ مائیں خود اپنی بچیوں کا ہاتھ پکڑ کر صفیہ کے پاس چھوڑنے آتیں۔ اس کام سے صفیہ کو تھوڑی بہت آمدنی بھی ہونے لگی تھی، جس سے وہ سجیلا کے لیے دودھ اور کپڑوں کا انتظام خود کرتی۔
ایک شام، جب پڑھائی ختم ہو چکی تھی اور بچے اپنے اپنے گھروں کو جا چکے تھے، صفیہ سجیلا کو گود میں لیے صحن میں بیری کے درخت کے نیچے بیٹھی اسے جھولا جھلا رہی تھی۔ سجیلا اب چند ماہ کی ہو چکی تھی، اس کی بڑی بڑی آنکھیں بہت پرکشش تھیں، لیکن اس کی حرکات و سکنات اور رونے کا انداز عام بچوں سے واضح طور پر مختلف تھا۔
اسی دوران گاؤں کی ایک زبان دراز اور متجسس عورت، زینب، اپنی بیٹی کی فیس کے پیسے دینے صحن میں داخل ہوئی۔ اس نے صفیہ کو پیسے دیے اور پھر اس کی گود میں لیٹی سجیلا کی طرف غور سے دیکھنے لگی۔ سجیلا نے اس وقت ایک عجیب سی دھیمی اور باریک آواز نکالی، جو کسی عام بچی کی روایتی آواز نہیں تھی۔
زینب نے سجیلا کے قریب ہو کر اس کے ننھے ہاتھ کو چھوا، پھر اس کے چہرے کو بغور دیکھتے ہوئے بولیں، "صفیہ بی بی! تمہاری بیٹی ماشاءاللہ پیاری تو بہت ہے، شکل بالکل تم پر گئی ہے۔۔۔ لیکن، اس کے ہاتھ اور پاؤں کی بناوٹ کچھ عجیب سی نہیں لگتی؟ اور یہ جو آواز نکالتی ہے، یہ بھی بہت الگ ہے۔ میں نے پورے گاؤں میں کوئی ایسا بچہ نہیں دیکھا۔ کیا تم نے شہر چھوڑنے سے پہلے کسی بڑے ڈاکٹر کو دکھایا تھا؟ کوئی نقص تو نہیں ہے اس میں؟"
یہ سوال سنتے ہی صفیہ کے دل کی دھڑکن جیسے ایک لمحے کے لیے رک گئی۔ مائی بختو کی کہی ہوئی زہریلی باتیں، رحمت خان کے خوفناک جملے اور شہر کے لوگوں کی نفرت بھری نظریں ایک سیکنڈ میں اس کے دماغ میں گھوم گئیں۔ اس کا چہرہ بالکل زرد پڑ گیا، اور سجیلا کو تھامے ہوئے اس کے ہاتھ کانپنے لگے۔ اسے یوں لگتا جیسے وہ جس سچ کو دنیا کی نظروں سے چھپا کر ان اونچے پہاڑوں کے پیچھے لائی تھی، وہ سچ اب آہستہ آہستہ اپنا چہرہ دکھانے لگا تھا اور آزمائش کا ایک نیا افق اس کے سامنے کھڑا تھا۔
صفیہ نے بمشکل اپنے آنسو روکے اور گھبرائی ہوئی نظروں سے خالہ کوثر کی طرف دیکھا جو دالان سے یہ سب سن رہی تھیں۔
کیا صفیہ زینب کے اس چبتے ہوئے سوال کا جواب دے پائے گی؟ کیا اس معصوم پہاڑی گاؤں کے لوگ سجیلا کی حقیقت جاننے کے بعد بھی صفیہ کو وہی عزت دیں گے، یا یہاں سے بھی صفیہ کو اپنی ممتا کی لاج بچانے کے لیے کسی اور انجان راستے پر بھاگنا پڑے گا؟
(جاری ہے)
کاپی رائٹ اور ڈسکلیمر
جملہ حقوق بحقِ مصنفہ محفوظ ہیں © 2026
ناول: سجیلا (قسط نمبر 4)
تحریر: ذوقِ عشاء (عشرت خانم)
پلیٹ فارم: ذوق ڈیجیٹل ناولز
قانونی تنبیہ:
اس ناول کے تمام کردار، پلاٹ، مکالمے اور تحریر مکمل طور پر مصنفہ کی تخلیق ہیں۔ مصنفہ کی پیشگی اجازت کے بغیر اس کہانی، اس کے کسی حصے یا اقتباس کو کسی دوسرے سوشل میڈیا پلیٹ فارم، یوٹیوب، بلاگ، یا ویب سائٹ پر کاپی کرنا، آڈیو/ویڈیو کی صورت میں ریکارڈ کرنا یا کسی بھی شکل میں چوری کر کے اپنے نام سے شیئر کرنا سخت قانونی جرم ہے۔ خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کاپی رائٹ ایکٹ کے تحت قانونی کارروائی کی جائے گی۔
Comments
Post a Comment